حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 472 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 472

: کوئی شخص دیکھے کہ میں اپنے بیٹے کو ذبح کرتا ہوں تو اس کے معنے یہی ہوتے ہیں کہ دُنبہ ذبح کر دے۔عالمِ رؤیا میں بیٹا کَبَشٌ ۱؎ ہوتا ہے اورکَبَشٌ بیٹا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۳،۱۰؍نومبر ۱۹۱۰ء صفحہ ۲۱۳) ابراہیم علیہ السلام بہت بوڑھے اور ضعیف تھے۔۹۹ برس کی عمر تھی۔خدا تعالیٰ نے اپنے وعدہ کے موافق اولادِ صالح عنایت کی۔اسمٰعیل ؑ جیسی اولاد عطا کی۔جب اسمٰعیلؑ جوان ہوئے تو حکم ہوا کہ ان کو قربانی میں دے دو۔اب ابراہیم علیہ السلام کی قربانی دیکھو۔زمانہ اور عمر وہ کہ ۹۹ تک پہنچ گئی۔اس بڑھاپے میں آئندہ اولاد ہونے کی کیا توقع۔اور وہ طاقتیں کہاں؟ مگر اس حکم پر ابراہیمؑ نے اپنی ساری طاقتیں۔ساری امیدیں اور تمام ارادے قربان کر دیئے۔ایک طرف حکم ہوا۔اور معًابیٹے کو قربان کرنے کا ارادہ کر لیا۔پھر بیٹا بھی ایسا سعید بیٹا تھا۔کہ جب ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا۔ تو وہ بلا چون و چرا یونہی بولا۔کہ  ابّا جلدی کرو۔ورنہ وہ کہہ سکتے تھے کہ یہ خواب کی بات ہے۔اس کی تعبیر ہو سکتی ہے۔مگر نہیں۔کہا۔پھر کر ہی لیجئے۔غرض باپ بیٹا نے ایسی فرماں برداری دکھائی کہ کوئی عزّت۔کوئی آرام۔کوئی دولت اور کوئی امید باقی نہ رکھی۔یہ آج کی ہماری قربانیاں اسی پاک قربانی کا نمونہ ہیں۔مگر دیکھوکہ اس میں اور ان میں کیا فرق ہے۔۱؎ کَبَشٌ : دُنبہ۔مرتّب ٔ اﷲ تعالیٰ نے ابراہیمؑ اور اس کے بیٹے کو کیا جزاء دی۔اولاد میں ہزاروں بادشاہ اور انبیاء پیدا کئے۔وہ زمانہ عطا کیا جس کی انتہاء نہیں۔خلفاء ہوں تو وہ بھی ملّتِ ابراہیمی میں سارے نواب اور خلفاء الہٰی دین کے قیامت تک اسی گھرانے میں ہونے والے ہیں۔(الحکم۲۴؍مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ۴) یہ دن (عیدالاضحی) بھی ایک عظیم الشان متّقی کی یا دگار ہے۔اس کا نام ابراہیمؑ تھا۔اس کے پاس بہت سے مویشی تھے۔بہت سے غلام تھے اور بڑھاپے کا ایک ہی بیٹا تھا۔