حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 471
۔کام آتا ہے۔سلامتی ہو۔انکار نہ ہو۔خدا سے سچّی محبت ہو۔اﷲ تعالیٰ کی مخلوق سے ہمدردی اور خیر خواہی ہو۔امر بالمعرو ف کرنے والا اور ناہی عن المنکر ہو۔بدی کا دشمن۔راست بازوں کا محبّ ہو۔خدا تعالیٰ سے غافل اور بے پرواہ نہ ہو۔یہ منشائے اسلام ہے۔(الحکم ۳؍مارچ ۱۸۹۹ء صفحہ۴۔۵) آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کا پاک نام ابراہیم بھی تھا۔جس کی تعریف اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے اِبْرَاھِیْمَ الَّذِیْ وَ فَّی اور وہی ابراہیم جو کا مصداق تھا۔اس نے سچّی تعظیم امرِالہٰی کی کر کے دکھائی۔اس کا نتیجہ کیا دیکھا۔دنیا کا امام ٹھہرا۔(الحکم ۲۴؍مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ۴) ۸۸۔ :چور چوری جبھی کرتا ہے کہ اس کو خدا کی صفت رزاقیت پر ایمان نہیں ہوتا۔زانی نہیں سمجھتا کہ اﷲ پاک بیبیاں دے سکتا ہے۔اسی لئے فرمایا( حٰم السجدہ:۲۴) (ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۳،۱۰؍نومبر ۱۹۱۰ء صفحہ ۲۱۲) ۸۹،۹۰۔ : انہوں نے وقت کی طرف توجّہ فرمائی۔اب بھی مہذّب ملک میں دستور ہے کہ کسی کو رخصت کرنا ہو یا خود جانا ہو تو اپنی گھڑی دیکھ لیتے ہیں۔: اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے۔کَانَ صِدِّیْقًانَّبِیًّاوہ بڑا راست باز تھا۔ادھر حضرت ابراہیمؑ فرماتے ہیں۔میں بیمار ہوں میری طبیعت ناساز ہے۔پس وہ اپنے قول میں سچّے تھے۔اپنی کمزوری اور کسی اندرونی سقم کو انسان خود ہی سمجھتا ہے۔اﷲ کے بندے باوجود ناسازیٔ طبع بھی تبلیغ کے جوش میں نکل آتے ہیں۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۳،۱۰؍نومبر ۱۹۱۰ء صفحہ ۲۱۲۔۲۱۳) ۹۹۔ : صرف ارادہ کیا ہے (یہ بات یاد رکھو) مگر خدا نے یہ ارادہ چلنے نہ دیا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۳،۱۰؍نومبر ۱۹۱۰ء صفحہ ۲۱۳) ۱۰۳۔