حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 44 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 44

کے ساتھ ہوں گے اور مکاشفات باب ۲۰ سے معلوم ہوتا ہے کہ یاجوج ماجوج کا زور اطراف ممالک معتقدین خداوند چاریا ر نبی ٔ عرب پر ہزار سال ہجری کے بعد ہو گا۔اور صاف ظاہر ہے کہ یا جوج والی رشیہ ہرات کے قریب پہنچ گیا اور ماجوج جن کے قبائل جرمن اور شمال فرانس نارمنڈے اور انگلینڈ وغیرہ میں ہیں۔۱۶۹۱ء؁ میں مطابق ہزار سال ہجری بلادِ اسلام پر مسلّط ہونے لگے۔غرض حسبِ مکاشفات ۲۰ باب ممتاز یا جوج ماجوج وہ ہیں جو بلادِاسلام پر مسلّط ہوں۔اور کیقباد اور ذوالقرنین کی دیوار وہ ہے جو مابین آرمینیا اور آذربائیجان بنام بارہ در بند اور یورال کی چوٹیوں پر قریب پانسو پینتیس سال قبل مسیح ؑ کے بنا لی گئی اور پلونا کے شمال میں جو قلعہ بنا ہے وہ بھی اسی میں ہے۔(فصل الخطاب طبع دوم حصّہ اوّل صفحہ ۱۷۴) : پہلی یہ فصیل آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان بنائی گئی۔۳۰ میل کے قریب جگہ ہے جس سے ملک کو بہت امن پہنچا۔پھر یورال کی چوٹیوں پر ایسی دیوار کھینچی گئی۔پھر سمرقند کے قریب بھی ایسی دیوار بنی پھر چین کے لوگوں نے وہ بڑی دیوار بنائی۔جو مشہور ہے۔سب یاجوج ماجوج کے حملہ سے بچنے کیلئے بنائی گئی تھیں۔: خدا نے انشراح صدر سے مجھے یقین دلا دیا ہے۔کہ یہ وہ قوم ہے جو بخارا سے لے کر شمال تک رہتی تھی۔گاتھ نارمنڈے۔وزی گاتھ سیکشن۔یہ لوگ جرمن۔فرانس۔انگلینڈ وغیرہ ممالک میں جاکر آباد ہوئے۔ترکوں کی نسبت لکھا ہے۔اُ تْرُکَ التُّرْکَ۔ان کو تُرک اس لئے کہتے ہیں۔کہتُرِکُوْا مِنْ۔انہوں نے شاہانِ فارس سے معاہدہ کر لیا تھا کہ تمہارے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہ کریں گے ہمیں یہیں رہنے دو۔بائیبل کی کتاب حزقیل باب ۳۸ میں یاجوج ماجوج کا ذکر ہے۔ماجوج جزائر میں رہنے والے لوگ ہیں۔ماجوج ماسکو اور ٹوبالسک کا سردار ہے۔ایک دفعہ میرا ایک دوست لنڈن گیا۔جسے میں نے فرمائش کی کہ وہاں کی سب سے پرانی یادگار کا پتہ لگائے چنانچہ اس نے تحقیقات کی تو اسے دو بُت دکھائے گئے۔جو یا جوج ما جوج کے تھے اور اسے بتلایا گیا کہ اس ملک کی سب سے پرانی یادگار تاریخی یہی ہے۔حضرت حزقیل کی کتاب میں تصریح سے لکھا ہے کہ جزائر میں بے پرواہی سے رہنے والے ماجوج ہیں اس لئے بھی ان کو یہ نام دیا گیا کہ وہ آگ کی پرستش کرتے یا آگ سے بہت کام لیتے۔آرمینیا اور آذربائیجان کی دیوار کا ذکر تفسیر بیضاوی میں بھی ہے۔یورال کی دیوار کا ذکر ابنِ خلدون میں لکھاہے۔چین کی دیوار کا ذکر مفسرّین نے کیا ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۳۰؍اپریل،۵؍مئی۱۹۱۰ء صفحہ ۱۶۲)