حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 461
اَلْاَرْضُ : یہ سمجھایا کہ اس ملک میں اخلاقی حالت۔یک جہتی۔امنِ عامہ سب کچھ مر چکا تھا۔امن عامہ کا یہ حال تھا۔کہ ایک کُتّی کے بچے کے مرنے پر ہزاروں ہی کٹ کے مر گئے۔بُت پرستی جس کا لازمہ جھوٹے قصّے ہیں کیونکہ پجاری اپنے اپنے بتوں کی فوقیت ثابت کرنے کیلئے عجیب عجیب فسانے تراش لیتے ہیں۔جن ملکوں میں شرک ہوتا ہے۔وہاں الہٰیات کا علم بالکل نہیں ہوتا۔پہاڑوں پر ایسی حالت بہت پائی جاتی ہے۔یورپ میں قطعاً بُت پرستی ہی رہ گئی ہے۔حضرت صاحب نے ایک موقع پر نہایت عمدہ نکتہ لکھا ہے کہ ان لوگوں نے نئی نئی ایجادیں کی ہیں یہاں تک کہ خدا بھی نیا ہی گھڑ لیا ہے۔لوتھرؔ نے لکھا ہے کہ بدکاری کر اور پیٹ بھر کر کر۔کیا مسیح تیرے لئے کفّارہ نہیں ہوا۔ایک پڑھے لکھے شخص سے میں نے پوچھا۔ایک شخص ننگے سر دو لکڑیاں ہاتھ میں لئے بھاگتا ہوا تمہاری کوٹھی کی طرف آئے اور کہے۔آئی ایم گاڈ۔آئی ایم گاڈ۔تو تم اسے کیا کہو گے۔اس نے کہا۔کہ آپ گستاخی کرتے ہیں۔میں نے کہا۔پاگل ہی کہتے ہیں۔غرض خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب زمین مردہ ہوتی ہے تو آسمان سے جو پانی برستا ہے اس سے وہ بقاعدہ (طارق:۱۲،۱۳) زندہ ہو ہی جاتی ہے۔اور جو جو بیج بڑھنے کی طاقت رکھتے ہیں۔وہ اس سے اُگ پڑتے ہیں۔اسی طرح آسمانی وحی کا پانی مُردہ دلوں پر پڑ کر ( جن میں استعداد ہو) ان کو زندہ کرتا ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۳، ۱۰؍نومبر ۱۹۱۰ء صفحہ ۲۱۱) ۳۷۔ : روئیدگی کے ساتھ اسکا ذکر کیا ہے۔کہ اس کو کھا کر نسل بڑھتی ہے۔اس تمثیل میں سمجھا دیا ہے۔جیسے بارش ہو تو کوئی روئیدگی کو روک نہیں سکتا۔اسی طرح یہ الہامی بارش جو ہوئی۔تو اب اس کے نتیجہ سے ایک قوم پیدا ہونے والی ہے۔تم اسے روک نہیں سکتے۔دور کیوں جاؤ۔اس گاؤں میں بھی ایک شخص پر خدا کے فضل کی بارش ہوئی۔اور پھر باوجود سخت مخالفت کے ایک قوم خدا کے دین پر چلنے والی پیدا ہو گئی۔اور تم جو یہاں دو تین سو بیٹھے ہو۔یہ اسی کا