حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 450 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 450

اَلْعُلَمَآء: ان لوگوں میں سے عالموں کا نشان بتاتا ہے۔کہ ان کی گفتار کردار میں خشیۃ اﷲ پائی جاتی ہے۔کوئی جیالجی جاننے والا ہو یا اسڑنمر ہو۔یا منطقی ہو یا نجومی یا طبیب۔خدا کے نزدیک عالم وہ ہے جو خشیۃ اﷲ رکھے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۷؍ اکتوبر ۱۹۱۰ء صفحہ ۲۰۹) پھر اندرونی مشکلات قوم کو سمجھنے کے واسطے اہل دل گروہ قوم کا دل اور علماء دماغ تھے۔اور حکومت کرنے والے تھے۔امراء حکومت کرنے والے تھے۔لیکن اگر اہل دل۔علماء اور امراء کے حالات کو غور سے دیکھیں تو ایک عجیب حیرت ہوتی ہے۔عظمتِ الہٰی اور خشیتِ الہٰی علومِ قرآنی کے جاننے کا ذریعہ تھا یا یوں کہو کہ اہلِ دل گروہ علماء سے بنتا ہے۔یا بلا دل ہی عالم ہونے چاہیئے تھے مگر یہاں یہ عالم ہی دوسرا ہے۔فقر اور علم میں باہم تباعد ضروری سمجھا ہے کہ عالم اور فقر کیا۔وہ علم جو چشیت اﷲ کا موجب ہوتا اور دل میں ایک رقّت پیدا کرتا وہ علم جو خشیت اﷲ کا موجب ہوتا۔ہرگز نہیں رہا۔(الحکم ۱۰؍اپریل ۱۹۰۱ء صفحہ ۷) سچّے علوم سے معرفتِ نیکی اور بدی کی پیدا ہوتی ہے اور خدا کی عظمت و جبروت کا علم ہوتا ہے اور اس سے سچّی خشیت پیدا ہوتی ہے  یہ خشیت بدیوں سے محفوظ رہنے کا ایک باعث ہوتی ہے اور انسان کو متقّی بناتی ہے اور تقویٰ سے محبتِ الہٰی میں ترقی ہوتی ہے۔پس خشیت سے گناہ سے بچے اور محبت سے نیکیوں میں ترقی کرے۔تب بیٹرا پار ہوتا ہے اور مامور من اﷲ کے ساتھ ہو کر اﷲ تعالیٰ کے غضبوں سے جو زمین سے یا آسمان سے یا جوّ سے نکلتے ہیں محفوظ ہو جاتا ہے۔( الحکم ۳۱؍جنوری ۱۹۰۲ء صفحہ ۷) ادنیٰ محبوبوں کو اعلیٰ محبوبوں پر قربان کرنے کا نظارہ ہر سال دیکھتا ہوں۔اس لئے ادنیٰ محبت کو اعلیٰ محبت پر قربان کرتا ہوں۔مثلاً سڑک ہے جہاں درخت بڑھانے کا منشاء ہوتا ہے۔وہاں نیچے کی شاخوں کو کاٹ دیتے ہیں۔پھر درخت پر پھول آتا ہے اور وہ درخت متحّمل نہیں ہو سکتا تو وہ عمدہ حصے کے لئے ادنیٰ کو کاٹ دیتے ہیں۔میرے پاس ایک شخص سردہ لایا اور ساتھ ہی شکایت کی کہ اس کا پھل خراب نکلا۔میں نے کہا کہ قربانی نہیں ہوئی۔چنانچہ دوسرے سال جب اس نے زیادہ پھولوں اور خراب پودوں کو کاٹ دیا تو اچھا پھل آیا۔لوگ جسمانی چیزوں کے لئے تو اس قانون پر چلتے ہیں مگر روحانی عالم میں اس کا لحاظ نہیں کرتے اور اصل غرض کو نہیں دیکھتے علم کی اصل غرض کیا ہے۔خشیۃاﷲعلم پڑھو اس غرض کیلئے کہ لوگوں کو خشیۃ اﷲ سکھاؤ۔مگر علم کی اصل غرض خشیۃ تہذیب النفس تو ختم ہو گئی۔ادھر کتابوں کے حواشی پڑھنے میں سارا وقت خرچ کیا جا رہا ہے مگر ان کتابوں کے مضمون کا نفس پر اثر ہو۔اسکی ضرورت نہیں۔میں رام پور میں پڑھتا