حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 426 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 426

کو مدّنظر رکھنی چاہیئے۔(الحکم ۱۷؍ نومبر ۱۹۱۲ء صفحہ۱۳) ایک بار وزیر آباد کے ریلوے سٹیشن پر ایک شخص نے مجھ سے پوچھا کہ قرآن کیونکر پڑھیں۔صرفؔ و نحوؔ تو آتی نہیں۔میں نے کہا صرفؔ و نحوؔ کی ضرورت نہیں ہے۔قرآن شریف میں قَالَ پہلے سے موجود ہے بنانا نہیں پڑتا پھر صرفؔ کی کیا ضرورت ہے رہی نحوؔ۔قرآن شریف میں زیریں زبریں پہلے سے موجود ہیں۔پھر اس نے گھبرا کر کہا۔کہ اچھا معانیؔ بدیعؔ کی ضرورت ہے۔میں نے کہا کہ وہ امر زائد ہے۔جب وہ اس سے بھی رُکا تو کہنے لگا۔کہ کم از کم لُغت کی تو ضرورت ہے۔میں نے کہا کہ اگر تم اپنی ہی بولی پر ذرا غور کر کے قرآن شریف پڑھو تو لُغت کی بھی بڑی ضرورت نہیں تم کوئی آیت قرآن شریف کی پڑھو۔میں تمہیں ترجمہ کر کے دکھا دیتا ہوں۔خدا کی قدرت ہے اس نے یہ آیت پڑھی ۔مَیں نے کہا۔کیسی صاف بات ہے گلأو گَلْ سِدّھی۔(الحکم ۳۱؍جنوری ۱۹۰۱ء صفحہ۷) ۷۳۔   اَلْاَمَانَۃَ: احکام : انکار کیا اس سے کہ خیانت کریں۔حَمَلَ الْاَمَانَۃ َ: عربی زبان میں خیانت کو کہتے ہیں۔: انسان نے ان میں بہت خیانت کی کیونکہ وہ اپنی جان پر ظلم کرنے والا ہے۔اور بہت جاہل۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۲؍ اکتوبر ۱۹۱۰ء صفحہ ۲۰۶)