حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 425 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 425

ہے۔تقویٰ اﷲ اختیار کرو اور پکّی باتیں کہو۔پکّی باتیں حاصل ہوتی ہیں کتاب اﷲ کو غور کے ساتھ پڑھنے سے، سنن اور تعامل کے مطالعہ سے۔احادیثِ صحیحہ کے یاد رکھنے سے۔یہ باتیں ہیں علومِ حقّہ کے حاصل کرنے کی۔مجھے اس موقعہ پر یہ بھی کہنا ہے کہ بعض لوگ تم میں سے اپنی غلط فہمی سے احادیث کو طالمود کہتے ہیں یہ ان کی سخت غلطی ہے۔انہوں نے ہرگز ہرگز امام کے مطلب کو نہیں سمجھا۔کہ ان کو معلوم نہیں کہ حصرت امام اپنی عظیم الشان پیشگوئیاں احادیث سے لیتے ہیں اور اپنے دعاوی پر احادیث سے تمسّک کرتے ہیں؟ آپ کا مطلب یہ ہے کہ جو حدیث قرآن شریف کے معارض ہو وہ قابلِ اعتبار نہیں۔کیونکہ یہ قاعدہ مسلّم ہے کہ راجح کا مقابلہ مرجوح سے نہیں کر سکتے۔اس کو آگے بڑھانا اور یہاں تک پہنچانا جہالت ہے اگر میری بات پر توجہ نہ ہو تو تم خود دریافت کر سکتے ہو۔احادیث سے انکار کرنا بڑی بد قسمتی ہے۔حضرت امام علیہ السلام نے بارہا فرمایا ہے کہ ہمارے لئے تین چیزیں ہیں۔قرآن۔سنّت اور حدیث۔قرآن اگر نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلّم نے پڑھ کر سنایا۔سنّت کے ذریعہ اس پر عمل کر کے دکھا دیا اور پھر حدیث نے اس تعامل کو محفوظ رکھا ہے۔غرض حدیث کو کبھی نہیں چھوڑنا چاہیئے جب تک وہ صریح قرآن شریف کے معارض اور مخالف واقع نہ ہوئی ہو بھلا دیکھو تو اسی نکاح کے متعلق غور کرو کہ ایک حدیث میں آیا ہے کہ جب آدمی نکاح کرتا ہے تو کیا کیا امور مدّ نظر رکھتا ہے۔اور گاہے عورت بیاہی جاتی ہے کہ وہ مالدار ہے اور گاہے یہ کہ حَسِیْن ہے یا کسی عالی خاندان کی ہے۔اور بعض اوقات مقابلہ مدّ نظر ہوتا ہے۔مگر رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔وَعَلَیْکَ بِذَاتِ الدِّیْنِ تَرِبَتْ یَدَاکَ تاکہ تقویٰ بڑھے۔ایک سے زیادہ نکاح بھی اگر کرو تو اس لئے کہ تقویٰ بڑھے۔جب تقویٰ مدّ نظر نہ ہو تو وہ نکاح مفید اور مبارک نہیں ہوتا۔غرص خدا تعالیٰ فرماتا ہے اور مومنوں کو مخاطب کر کے فرماتا ہے ۔انسان کی زبان بھی ایک عجیب چیز ہے جو گاہے مومن اور گاہے کافر بنا دیتی ہے معتبر بھی بنا دیتی ہے۔اور بے اعتبار بھی کر دیتی ہے۔اس لئے مولیٰ کریم فرماتا ہے کہ اپنے قول کو مضبوطی سے نکالو۔خصوصًا نکاحوں کے معاملہ میں اس کا فائدہ ہوتا ہے۔ تاکہ تمہارے سارے کام اصلاح پذیر ہو جاویں۔صدہا لوگ ان معاملاتِ نکاح میں تقویٰ اور خدا ترسی سے کام نہیں لیتے اور الہٰی حکم کی قدروعظمت ان کو مدّ نظر نہیں ہوتی۔بلکہ وہ اس تراش خراش میں رہتے ہیں کہ یہ مقابلہ ہو یا شَہوات کو مقدّم کرتے ہیں۔لیکن جب تقویٰ ہو تو اعمال کی اصلاح کا ذمّہ دار اﷲ تعالیٰ ہو جاتا ہے۔اور اگر نافرمانی ہو تو وہ معاف کر دیتا ہے۔بات یہ ہے جو اﷲ و رسولؐ کا مطیع ہوتا ہے وہ بڑا کامیاب۔اسی لئے یہ بات ہر ایک کو