حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 407
ہے کہ میری رُوح اُس پر قربان ہوتی ہے۔فرمایاکَلَّا وَ اﷲِ۔نہیں حضور۔ہرگز نہیں ہو سکتا۔خدا کی قسم خدا آپ کو کبھی ذلیل نہیں کرے گا۔آپؐ تو رِحم کا بڑا بھاری لحاظ کرتے ہیں پس رِحم کے لحاظ سے بیوی کے رشتہ داروں سے محبت کی جاتی ہے۔جو شخص ایسا لحاظ کرتا ہے۔پیارے خاوند وہ ذلیل نہیں ہوتا۔پس تم بھی رشتہ داروں سے خاص پیار اور محبت کرو کہ خدا ذلّت سے بچاوے۔آپؐ تو دُکھیاروں کے دُکھ بٹاتے ہو اور دُکھیوں اور تھکے ماندوں کی مدد کرنے والا خدا کے حضور ذلیل نہیں ہوتا۔پھر آپؐ کے حضور جو لوگ آتے ہیں وہ وہ چیز پاتے ہیں جو جہان میں ان کو میسّر نہیں آ سکتی یعنی خدا کے قرب کی راہیں آپؐسے ملتی ہیں۔اور آپؐسچ بولتے ہیں اور ضرورتوں کے وقت آپؐ ہمیشہ لوگوں کے شریک ہوتے ہیں۔اسی طرح کے لوگ ذلیل نہیں ہوتے۔پس یہ ایسی باتیں ہیں کہ جو سچ طور پر رسول کی رسالت کو ثابت کرتی ہیں۔یہ کلمہ اس بی بی کے مُنہ سے نکلا ہوا ہزاروں ہزار لوگوں کے واسطے راہِ ہدایت ہوا۔جب لوگ دیکھتے کہ پندرہ برس کی تجربہ کار بی بی ایسے الفاظ کہتی ہے تو سوائے ماننے کے اور کیا کہہ سکتے۔اسی قسم کا پاک نمونہ ہونے کے لئے خدا نے ان آیات میں آگاہ کیا ہے۔کہ جو عورتیں رسولؐ کے گھر میں رہتی ہیں۔خدمتگار ہوں یا اصیل ہوں۔خدا تمہارے لئے چاہتا ہے کہ تمہارا اصل ارادہ زینتِ دنیا نہ ہو۔بلکہ خدا اور رسولؐ کی اتباع اور آخرت کی بھلائی ہو۔تمہاری غلطی دہری غلطی نہ ہو کیونکہ غلط کار اپنی غلطی کا آپ ہی پھل اٹھاتا ہے۔پس جس کی غلطی دیکھ کر دوسروں نے اثر پذپر ہونا ہے۔اس کو دو غلطیوں کا پھل ملے گا۔اسی طرح تمہارے لئے نیکی کے عوض میںاجر بھی دوہرا ہے۔مثلاً اگر ہماراچال چلن بُرا ہے تو ہم اوّل تو خدا کا گناہ کرتے ہیں۔دوسرا اپنے امام پر الزام لگاتے ہیں۔کہ اس کے ہم نشینوں کے اعمال کیسے ہیں۔تو خود اس کے کیسے ہوں گے۔پس تم بھی دوہری جواب دہ ہو گی۔اوّل اپنی ذات میں دوسرے وہ نقص بھی تمہارے ذمّہ ہیں جو تم کو دیکھ کر دوسری عورتوں نے تمہاری اتباع کا نمونہ گھڑا۔خدا کی اتباع کرو تاکہ خدا تمہارے کُل دَلِدّر دُور کرے اور تم پر اپنی مہربانی کرے۔(الحکم ۳۱؍جولائی ، ۱۰؍اگست ۱۹۰۴ء صفحہ۸) ۳۱۔