حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 399
اتری وہ آیت یہ ہے: (ص:۱۲) ۔ (القمر:۴۵۔۴۶) (فصل الخطاب حصّہ دوم طبع دوم صفحہ۹۵۔۹۶) ۱۴۔ : اے مسلمان مدینہ والو۔تمہارے ٹھہرنے کی جگہ نہیں۔: اپنے اپنے مذہبوں میں لوٹ جاؤ۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان یکم ستمبر ۱۹۱۰ء صفحہ ۲۰۴) اور ایک فریق اُن میں سے نبی سے اجازت مانگتا کہ ہمارے گھر خالی ہیں حالانکہ وہ خالی نہ تھے منشا ان کا فقط بھاگ جانا تھا۔(فصل الخطاب حصّہ دوم صفحہ۹۵) مجھے ان لوگوں پر تعجّب آتا ہے جو سلسلۂ بیعت میں داخل ہیں۔مگر یہاں نہیں آتے اور اگر آتے ہیں تو اس قدر جلدی کرتے ہیں کہ ایک دن رہنا بھی اُن کیلئے ہزاروں موتوں کا سامنا ہو جاتا ہے۔ان کے جتنے کام بگڑتے ہیں وہ یہاں ہی رہ کر بگڑتے ہیں۔جتنے مریض ہوتے ہیں وہ یہاں ہی رہ کر ہوتے ہیں ہزاروں ہزار عذر کرتے ہیں۔یہ بات مجھے بہت ہی ناپسند ہے۔مجھے ایسے عذر سُن کر ڈر لگتا ہے کہ ایسے لوگکے الزام کے نیچے نہ آ جائیں۔پس جب یہاں آؤ تو امام کی صحبت میں رہ کر ایک اچھے وقت تک فائدہ اٹھاؤ۔کَسَل اور بُعد اچھا نہیں ہے۔! خدا کرے۔ہمارے احباب میں وہ مزہ دارطبیعت پیدا ہو جو وہ اُس ذوق اور لُطف کو محسوس کر سکیں جو ہم کر رہے ہیں۔اﷲ تعالیٰ ستّار ہے اور جب تک کسی کی بدیاں انتہاء تک نہ پہنچ جاویں اور(البقرہ:۸۲)نہ ہو جاوے اور حد سے تجاوز نہ کر جاوے۔خدا تعالیٰ کی ستّاری کام کرتی ہے۔بعد اس کے