حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 395
خون بہا دے کر اس کی لاش لینی چاہی۔مگر نبی اﷲ نے مفت دے دی۔اس شدّت کی حالت میں مختلف اقوامِ عرب اور نواحی مدینہ کے یہود کی حملہ آوری اور اسلام کی کمزوری کو منافق اور کمزور لوگ دیکھ کر چل نکلے اور کل تین سو آدمی آپؐ کے پاس رہ گیا۔اس قلیل جمعیت میں خدائی لشکر اسلام کی امداد کو آیا۔ہوا کی تیزی اور سردی نے دشمن کے ڈیرے خیمے اکھیڑکر دشمن کو راتوں رات بھگا دیا۔ (الاحزاب:۲۶)کی تصدیق ظاہر ہوئی۔اس لڑائی میں غطفانؔ اور بنوقریظہؔ اور بنو نضیرؔ اور اہل خیبرؔ کا سلوک ہرگز ہرگز ہرگز فراموش کرنے کے قابل نہیں۔ان بدعہد۔عہد شکن قوموں کی لڑائی کی جڑھ یہی واقعات ہیں۔اس لڑائی میں پانچ نمازیں ایک وقت میں پڑھی گئیں اور اس مکّی آیت کی (ص ٓ:۱۲) اسی لڑائی میں تصدیق ہوئی۔(فصل الخطاب حصّہ اوّل ایڈیشن دوم صفحہ۱۰۷تا۱۰۹) غزوۂ قریظہ خندق اور احزاب کی لڑائی میں … مشرکوں کے مختلف گروہ اور یہودی اور غطفانی خاص مدینے میں اسلامیوں پر چڑھ آئے۔حُیَيّ بن اخطب یہودی بنو نضیرؔ کی جلاوطنی کے بعد قریش کو تحریص دیتا۔اور کنانہ ابولحقیق کا پوتا غطفانیوں کو اُکسا لایا۔اور اُن سے وعدہ کیا۔خیبر کی آمدنی سے نصف آمدنی میں دوں گا۔اگر مسلمانوں پر حملہ آوری کرو۔سلام بن مشکم اور ابن ابو الحقیق اور حُیَيّاور کنانہؔ یہ سب بنو نضیر مکّے میں پہنچے اور کہا ہم تمہارے ساتھ ہیں اگر تم اسلام پر حملہ آوری کرو۔ان یہودیوں کی کارستانی اور جادو بیانی قریش کے غیظ و غضب سے مل کر تمام عرب کو مدینہ پر چڑھا لائی۔جب یہ مختلفہ اقوام بغرض استیصال اسلام مدینے میں پہنچے حُیَيّبن اخطب یہودی۔خیبری۔نضری کعب بن اسد قرظی ( یہ شخص بنو قریظہ کا ہم عہد تھا) کے پاس پہنچا۔پہلے تو کعب نے حُیَيّ کو گھر میں گھسنے نہ دیا۔اور کہا۔ہمارا اور اسلامیوں کا باہم معاہدہ اور اتحاد ہے۔اور بنو قینقاع اور بنو نضیر پر جو کچھ بدعہدی کا وبال آیا۔اسے یاد کیا۔مگر حُیَيّنے کہا۔مَیں تمام قریش اور عرب کے مختلف قبائل کو مدینہ پر چڑھا لایا ہوں۔اور ان تمام اقوامِ عرب نے عہد کر لیا ہے کہ جب تک اسلام کا استیصال نہ کر لیں گے مدینے سے واپس نہ جائیں گے۔کعب نے پہلے پہل بہت ٹالم ٹالا کیا اور کہا۔محمدؐ بڑا راستگو۔راستی پسند انسان ہے اور عہد کا بڑا پکّا ہے۔ہم کو مناسب نہیں اس کے ساتھ بدعہد بنیں۔مگر آخر دشمنوں کی کثرت اور ان کے استقلال کو دیکھ کر اور حُیَيّ کے پھسلانے اور عداوتِ اسلام کی قدیم بدعہدی میں آ کر باغی بن گیا اور تمام عہدوں کو بالائے طاق رکھ کر اس عبرت بخش عاقبت اندیش عقل کو کھو بیٹھا۔جو معاملات بنو قینقاع اور بنو نضیر میں تجربہ کار ہو چکی تھی۔اور عین جنگ کے وقت آنحضرت ؐ کو ان یہودیوں کی بدعہدی کی خبر