حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 394 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 394

آئے۔اور وہی مضمون پیش کیا اور کہا کہ قریش سب اس امر میں ہم سے متفق ہیں۔وہ بھی جمع ہوئے قریش اور غطفان نکل کھڑے ہوئے۔قریش کا سپہ سالار ابوسفیان تھا اور غطفان کا عُیَیْنَہْ بن حصین فزاری۔غرض دس ہزار فوج جرّار بڑے بڑے منصوبے باندھ کر خدائی لشکر کے مقابلے کو روانہ ہوئے قریش تو مدینے کے اس طرف اترے جہاں بارشی ندیاں بہتی تھیں۔بنی کنانہ۔اہل تہامہ۔بنو قریظہ۔بنو نضر غطفان۔اہل نجد وغیرہ اُحد کی طرف اترے۔اور مسلمان وہاں اترے جہاں سلعؔ نام پہاڑ ان کے عقب میں تھا۔اور تعداد میں فقط تین ہزار تھے۔حُیَيّ بن اخطب خیبر کا ایک یہودی کعب بن اسد قرظی رئیس بنی قریظہ کے پاس آیا اور کعب قبل اس کے اپنی قوم کی جانب سے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے ساتھ مسالمت کا معاہدہ کر چکا تھا۔کعب قرظی نے یہ کہہ کر دروازہ بند کر لیا کہ مَیں نے آنحضرتؐ سے معاہدہ کر لیا ہے اور میں نے اس شخص میں سوائے وفا و صدق کے نہیں دیکھا۔اس لئے میں نقضِ عہد نہیں کرنے کا۔ابنِ اخطب نے بڑے زور سے اس سے کہا۔کہ اوکمبخت میں تو لشکرِ کرّار اور فوج جرّار تیرے پاس لایا ہوں۔دیکھ وہ مجتمع الاسیال ( ندیاں بہنے کی جگہ) میں اترے پڑے ہیں۔اور غطفان ان کے مقدمۃ الجیش ہیں۔وہ اُحد کے پاس ٹھہرے ہیں اور مجھ سے ان سب جماعتوں نے مضبوط عہد باندھا ہے کہ محمد ( صلی اﷲ علیہ وسلم) کے استیصال کئے بغیر یہاں سے ٹلیں گے نہیں۔غرض بڑے الحاح اور اصرار سے کعب راضی ہو گیا۔اور نقضِ عہد کی شامت سے نہ ڈرا۔جب یہ خبر آنحضرتؐ کو ہوئی۔آپؐ نے سعد بن معاذ اور سعد بن عبادہ اور ابن رواحہ اور خوات کو اس لئے بھیجا کہ یہود کی خبر لاویں۔کہیں کفّار مکہ سے مل تو نہیں گئے۔جب یہ لوگ وہاں پہنچے۔دیکھا یہود سخت بگڑے ہوئے ہیں اور مخالف ہو گئے۔یہ لوگ واپس چلے آئے۔اور اس واقعہ کو نبی ٔ عربؐ پر ظاہر کیا۔عضلؔاور قارہؔ نے جیسے اصحاب الرجیع کے ساتھ غدر اور مکّاری کی ہے ایسی ہی اس تکلیف کے وقت یہود نے عہد شکنی کی۔اسی واسطے اس غزوۂ احزاب اور خندق کے واقعہ میں قرآن فرماتا ہے۔  فِیْ (الاحزاب:۱۱تا۱۳) اس لڑائی میں نوفل بن عبداﷲ کفّار کی طرف سے حملہ آور ہوا۔اور خندق میں گر کر مر گیا۔دشمنوں