حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 393
جُنُوْدٌ: لشکرِ کفّار۔دس ہزار آدمی باہر سے حملہ آور ہوئے اور اندر سے یہود دشمن ہو گئے۔: باہر سے آئے۔: مدینہ کے دشمن یہود جو برخلاف معاہدہ بیرونی دشمنوں کے ساتھ مِل گئے تھے۔: دل دھڑکتے ہوئے حنجرے پر معلوم ہوئے۔(بدر ۲۹؍ستمبر ۱۹۰۵ء صفحہ۶) غزوۂ خندق جسے غزوۂ احزاب بھی کہتے ہیں (وجہ تسمیہ اسکی یہ ہے۔کہ آپؐ نے سلمانؓ کے کہنے پر اپنی فوج کے گردا گرد خندق کھدوالی تھی جیسا اس زمانے میں اہلِ فارس کا دستور تھا) اس موقعہ پر عرب کے بہت سے قبائل اہلِ اسلام کے استیصال کو اکٹھے ہوئے۔یہود کی ایک جماعت سلام بن ہقیق نضری اور حُیَیْ بن اخطب نضری و کنانہ بن ربیع بن ابی حقیق نضری و ہوذہ بن قیس وائلی و ابو عمار وائلی بنی نضیر اور بنی وائل قبیلے بہت سے لوگوں کو سات لے کر خیبر سے چل کر قریش مکّہ کے پاس آئے اور انہیں اپنی کمک و رفاقت کے قوی وعدے دے کر آنحضرتؐ سے لڑنے کو کہا اور سخت ترغیب دی۔کہ ایک دفعہ مل کر مسلمانوں کا استیصال کر ہی ڈالیں۔قریش نے انہیں کہا۔اے گروہ یہود تم لوگ پہلے اہل کتاب ہو اور تم ہمارے اور محمد (صلی اﷲ علیہ وسلم) کے درمیان اختلاف کی وجہ کو جانتے ہو یہ تو بتاؤ کہ ہمارا دین اچھا ہے یا دینِ محمدؐ۔انہوں نے ( یہود بنی اسرائیل۔اہلِ کتاب۔موحدّ۔بُت پرستی کے دشمن) کہا۔تمہارا دین اس سے کہیں بہتر ہے۔اور اس سے زیادہ حق پر ہو۔انہیں کے حق میں یہ آیت اُتری۔ (نساء:۵۲) (نساء:۵۵) قریش اس بات سے نہایت خوش ہوئے اور اجتماع عظیم کیا۔پھر وہ یہود غطفان قیس کے پاس