حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 392 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 392

ایک طرف پہاڑ تھا۔اور ایک طرف بہ نظر اسباب ظاہری ایک خندق کھو دی گئی۔اتنے بڑے لشکر کے مقابلہ میں مسلمانوں کی کیا تعداد تھی۔آپؐ دعاؤں میں لگے رہے۔ایک رات کو آدھی رات کے قریب آپؐ نے آواز دی کہ کوئی ہے جو جا کر دیکھے کہ کافروں کا لشکر کہاں ہے۔تیز ہوا سردی اور دشمنوں کا ڈر۔جس نے آپؐ کا آواز سنا وہ بھی مارے خوف کے خاموش ہو رہا۔لیکن ایک صحابی اٹھا۔اور باہر گیا۔اور واپس آ کر خبر دی۔کہ کفّار کا نام و نشان نہیں۔معلوم نہیں دس کا دس ہزار کہاں چلا گیا۔بعد میں معلوم ہوا کہ وہ سب کے سب وہاں سے اس طرح بھاگ گئے تھے جس طرح ایک چھوٹا سا لشکر کسی بڑے عظیم الشّان لشکر کے ڈرسے ہراساں و تر ساں بھاگ جاتا ہے۔اور اس کی وجہ اس طرح سے خداوند تعالیٰ نے قائم کی کہ رات کو جب تیز ہوا چلنی شروع ہوئی تو ایک کافر سردار کے ڈیرے کی آگ بُجھ گئی۔آگ سے وہ لوگ جنگ کی تعبیر لیا کرتے تھے۔اور میدانِ جنگ میں آگ کا بجھنا ایک بڑی بدشگونی سمجھی جاتی تھی۔کافر نے سوچا کہ یہاں خَیر نہیں۔آگ بُجھ گئی ہے انجام بُرا معلوم ہوتا ہے۔بہتر ہے کہ چپکے چپکے نکل جاؤں۔چنانچہ اس نے اپنا خیمہ ڈنڈا اکھیڑا اور وہاں سے چل کھڑا ہوا۔پاس والوں نے جو دیکھا کہ وہ اس طرح سے نکل گیا ہے تو انہوں نے سمجھا کوئی بہت ہی خرابی کی بات واقع ہوئی ہے جو وہ راتوں رات بھاگا ہے۔انہوں نے بھی اپنا بسترا بوریا لپیٹا اور بھاگ نکلے۔ان کو دیکھ کر پھر اور بھاگے غرض اس طرح خدا کے فرشتوں نے ان سب کو سراسیمہ اور ہراساں کر کے بھگا دیا۔یہاں تک کہ کفّار کے لشکر کا کمانڈر اپنے اونٹ کی پچھاڑی کاٹنا بھی بھول گیا اور جلدی سے اونٹ پر سوار ہو کر اس کو ایڑی لگائی کہ چل۔پر وہ چلے کہاں۔اس وقت جو نعمتِ الہٰی مسلمانوں پر ہوئی۔اس کا ذکراس جگہ ان آیات میں ہے۔(بدر ۲۲؍ستمبر ۱۹۰۵ء صفحہ۳) ۱۱ تا ۱۳۔