حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 383
: الگ ہو جاتی ہیں ان کی پسلیاں اپنے بسترے سے رب، رب کہتے ہیں۔خوف بھی لگا ہوا ہے اور امیدوار بھی رہتے ہیں اور ہمارے دئے ہوئے سے خرچ کرتے ہیں۔نکتہ: کنجوس۔متکبّر۔بدعہد۔حاسد۔تنہائی میں خدا سے نہ مانگنے والے کبھی ہدایت نہیں پاتے۔(بدر ۱۴؍ستمبر ۱۹۰۵ء صفحہ۳) ۱۸۔ انسان کو کیا معلوم ہے کہ ظاہری تکالیف میں اس کے واسطے کیا کچھ آرام و راحت مقدّر ہے۔خدا تعالیٰ کے علم پر قیاس نہیں چل سکتا۔اﷲ تعالیٰ کے کسی فعل پر ناراض ہونے کے کیا معنی؟ ایک ڈاکٹر کے چیر کاٹ پر کوئی ناراض نہیں ہوتا تو اﷲ تعالیٰ جو علیم و حکیم ہے اس کے فعل پر ناراضگی کیوں؟ ممکن ہے کہ اس کے بدلہ میں اس کیلئے بھلائی ہو! …الخ (البقرہ:۱۵۹) حضرت ہاجرہ ایک شاہزادی تھی۔شاہانہ طور پر حضرت ابراہیم علیہ السلام کو مال بھی دیا تھا۔اﷲ تعالیٰ نے ان کو ایک بچّہ بھی دیا۔وہ وَادٍ میں رکھی گئی۔اس جگہ اس نے کہا کہ کیا تو مجھے اﷲ تعالیٰ کے حکم سے یہاں چھوڑتا ہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جواب دیا۔ہاں۔تب ہاجرہ نے کہا۔کہ جا۔اب ہم ضائع نہیں کئے جاویں گے۔اب جا کر صفا مروہ کا نظارہ دیکھو ریت کے دانوں کی مانند ان کی اولاد بھی گنی نہیں جا سکتی۔ہاجرہ کو کیا خبر تھی کہ ایسا ہو گا! (بدر ۱۴؍ستمبر ۱۹۰۵ء صفحہ۳) ۱۹۔ ہمیشہ حق کے مخالف اور متکبّر۔انبیاء اور ان کے غریب جاںنثاروں کو ستاتے اور ان کے مقابلہ میں ظالمانہ صف آراء ہوتے ہیں۔پر ماٰل کاروہی کمزور اور مومن غالب ہوتے ہیں۔سچ ہے۔۔کیا جو مومن ہے وہ فاسق کا سا ہو سکتا ہے۔نہیں وہ برابر نہیں۔