حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 371 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 371

عیسائیوں کا یہ حال کہ حضرت مسیح علیہ السلام کو اﷲ تعالیٰ کا ازلی بیٹا بلکہ خدا یقین کرتے اور اس کو ایمان جانتے تھے۔اور ان کا اعتقاد تھا۔اور ہے۔کہ اﷲ تعالیٰ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ مِنْ کُلِّ الْوُجُوْہ ایک ہے اور تین ہے۔پناہم بخدا !!! عیسائی کہتے ہیں۔خدا باپ ازلی۔خدا بیٹا ازلی۔خدا روح القدس ازلی تینوں خدا ہیں۔پھر خدا ایک ہے… اُس وقت کیتھولک فرقہ کا عروج تھا اور عیسائیوں میں بعض ایسے بھی تھے جو صدیقہ مریم علیھا السلام کو متمّم تثلیث جان کر ان کی تصویر پر گوٹے کناری کے کپڑے ڈالتے تھے۔ہند میں بھی بعض لوگ بتوں کو گرمی اور سردی کا لباس علیحدہ علیحدہ چڑھاتے ہیں۔(تصدیق براہین احمدیہ صفحہ۹ تا صفحہ۱۱) ۲۳۔  : اپنی ساری توجہ اﷲ کی طرف سونپ دیتے ہیں۔دنیا بے شک کماؤ مگر اﷲ کیلئے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۵؍ اگست ۱۹۱۰ء صفحہ ۲۰۱) ۲۸۔  : اﷲ کی باتیں ختم نہیں ہوتیں صرف اسی بات کو لو۔ایک قطرے میں کتنے کیڑے ہوتے ہیں۔اب ان کے اعضاء کی تشریح اور خداوندِ عالم کی قدرت کا ذکر شروع ہو تو کب ختم ہو سکتا ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۵؍اگست ۱۹۱۰ء صفحہ ۲۰۱) : کیونکہ ہر ہر قطرے میں کئی حکمتیں ہیں۔(تشحیذالاذہان جلد ۸ نمبر۹ صفحہ۴۷۳ماہ ستمبر ۱۹۱۳ء) ۲۹۔