حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 370
: وہ علم جو خدا تعالیٰ اپنی جناب سے بخشتا ہے۔اور نور فراست اور پاک کتاب کو نہیں سمجھتے۔مگر جھگڑنے اور ہر دین کی بات میںرائے دینے کو تیار۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۵؍اگست ۱۹۱۰ء صفحہ ۲۰۱) اس آیت میں اﷲ تعالیٰ نے ظاہر فرمایا ہے کہ بحث کرنے کے واسطے تین چیزوں کا ہونا ضروری ہے۔بحث صرف وہ شخص کر سکتا ہے جس کو تین باتیں حاصل ہوں۔علم۔ہدایت اور روشن کتاب۔ہر شخص کا کام نہیں کہ بحث کے کام میں مصروف ہو جاوے۔(بدر ۳۱؍اگست ۱۹۰۵ء صفحہ۶) حضور علیہ السلام نے ایسے وقت جب تمام دنیا پر روحانی ،تمدّنی اور اخلاقی حالت کی نسبت ظلمت اور تاریکی چھائی ہوئی تھی اور دنیا کے لوگ گم کر دہ راہ بھُول بھلیّاں میں مبتلا تھے آفتاب کی مانند طلوع فر ماکر راہ نمائی کا بیڑا اٹھایا اور لگے نکالنے لوگوں کو ظلمات سے نور کی طرف۔خدا کے واسطے ذرا غور تو کر و۔اس سراجِ منیر کی نور افشانی کے وقت تمام آباد دنیا کا کیسا حال تھا دنیا کے اشیاء جنہیں انسان کے خادم کہنا چاہیئے اور حسب الحکم انسان کے ماتحت ہیں۔بالعکس انسان کے معبود بنائے گئے۔غور کرو۔ہندوستان کا ملک ایسا تھا کہ اس میں پتھر اور درخت پوجے جاتے تھے بلکہ یوں کہنا چاہیئے کہ آریہ ورت بقول آریوں کے بھی ہندوستان ہو چکا تھا۔حیرانی ہوتی ہے کہ لِنگ کی مَہْما اور اس کی پُوجا کا دور دَورہ یہاں تھا۔بھگ اور شکتی کی پرستش یہاں تھی۔دام مارگ۔اگھور۔کپال مت کے بانی اور گروہ یہاں ہی تھے۔جین اور ناستکوں کا مبداء اور مَوْلَدْ یہی آریہ ورت تھا۔آریوں کے یا ہندؤں کے ہمسایہ یا پہلے استاد بلکہ بھائی بند قدیم ایرانی اگنی ہو تری ہے۔جنہوں نے آسمانی بروج۔سیّاروں۔ستاروں اور خاص کر سورج کو معبود بنا رکھا تھا۔بلکہ ان کے نہایت ناپاک اثر سے فارسی لٹریچر میں تمام سُکھوں اور دُکھوں کو آسمانی گردش کی طرف منسوب کیا گیا تھا۔اسلام کے مدعی لائق منشیوں نے سورج کوحضرت نیّرِ اعظم وغیرہ مقدّس الفاظ سے یاد کیا۔یہ لوگ یزدان اور اہرمن دو خداؤں خالقِ خیر اور خالقِ شَر کے معتقد تھے۔مغرب اور شمال بلکہ اندرونی حصّہ عرب میں یہود اور عیسائی تھے۔