حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 365
(الانعام:۲) کوئی شخص اﷲ تعالیٰ کے برابر اس کی ذات میں کسی دوسرے کو بھی مانتا ہو۔یہ شرک مَیں نے کسی سے نہیں سُنا۔ثنوی ایک فرقہ ہے جو کہتے ہیں۔دنیا کے دو خالق ہیں۔ایک ظلمت کا، ایک نُور کا مگر برابر وہ بھی نہیں کہتے۔خدا نے فرمایا کہ (النمل:۶۱) تو کفّار مکّہ جوبڑے مشرک تھے۔انہوں نے بھی کہا۔اﷲ۔اسی طرح ان کے جاہلیت کے شعروں میں اﷲ کا لفظ کسی اور پر نہیں بولا گیا۔پھر شرک کیا ہے۔جس کے واسطے قرآن شریف نازل ہوا؟ سنو! دوسرا مرتبہ صفات کا ہے اﷲ تعالیٰ ازلی ابدی ہے۔سب چیزوں کا خالق ہے۔وہ غیر مخلوق ہے۔پس یہ صفات کسی غیر کے لئے بنانا شرک ہے۔آریہ قوم نے پانچ ازلی مانے ہیں۔۱۔اﷲ قدیم ازلی ہے ۲۔روح ازلی ہے ۳۔مادہ ازلی ہے ۴۔زمانہ ازلی ہے ۵۔قضاء ازلی ہے۔جس میں یہ سب چیزیں رکھی ہیں۔اس واسطے یہ قوم مشرک ہے۔عیسائی قوم نے کہا ہے کہ بیٹا ازلی ہے باپ ازلی ہے۔روح القدس ازلی ہے۔اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے(المائدہ:۷۴) ایک قوم ہے جو اﷲ تعالیٰ کے علم میں اور تصرّف میں کسی مخلوق کو بھی شریک بناتی ہے۔بدبختی سے مسلمانوں میں بھی ایسا فرقہ ہے۔جو کہ پیر پرست ہے حالانکہ رسول کریمؐ سے بڑھ کر کوئی نہیں اور وہ فرماتا ہے (الانعام:۵۱) اور (الاعراف:۱۸۹) پس کسی اَور وَلی کو کبھی یہ قدرت حاصل ہو سکتی ہے۔کہ اسے جانی جان کہا جاوے اور یہ سمجھا جاوے کہ وہ حاضر و غیب ہماری پکار سنتے ہیں۔یہ جواب جو دیا جاتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے ان کو علمِ غیب یا تصرّف دے دیا ہے۔صحیح نہیں کیونکہ شرک کے معنے ہیں۔سانجھی بنانا۔خود بن جاوے یاد ینے سے بنے۔یاد رکھو۔اﷲ کا علم ایسا وسیع ہے کہ بشر اس کے مساوی ہو ہی نہیں سکتا۔جو نشان اﷲ تعالیٰ نے اپنی الوہیّت کیلئے بطور نشان رکھے ہیں۔وہ کسی اور میں نہیں بنانے چاہئیں۔بڑا نشان تذلّل کا ہے۔سجدہ اس سے بڑھ کر اور کوئی عاجزی نہیں۔زمین پر گر پڑے۔اب آگے اور کہاں کدھر جاویں۔فرماتا ہے (حٰم السجدہ:۳۸) پس جو غیر کو سجدہ کرے وہ مشرک ہے… قرآن شریف نے ایک اور شرک کی طرف بھی توجّہ دلائی ہے۔وہ یہ ہے کہ