حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 342
میں نے کہا یہ تو قرآن مجید ہی کا قول ہے۔وہ فرماتا ہےکیا ان کیلئے یہ کتاب کافی نہیں جو ہم نے ان پر اتاری۔یہی حضرت عمرؓ نے کہا۔(الفضل ۳۰؍جولائی ۱۹۱۳ء صفحہ۱۵) میں نے بہت سی کتابیں پڑھی ہیں۔اور خوب سمجھ کر پڑھی ہیں۔مجھے قرآن کے برابر پیاری کوئی کتاب نہیں ملی۔اس سے بڑھ کر کوئی کتاب پسند نہیں ہے۔قرآن کافی کتاب ہے۔ ہمیشہ اﷲ تعالیٰ کی طرف سے مامور آتے ہیں اور آتے رہیں گے۔میں نے اپنے زمانہ میں میرزا غلام احمدؑ صاحب کو دیکھاہے۔سچّا پایا اور بہت ہی راست باز تھا۔جو بات اس کے دل میں نہیں ہوتی تھی وہ نہیں منواتا تھا۔اس نے ہی ہم کو بھی حکم دیا کہ قرآن پڑھو اور اس پر عمل کرو۔(الفضل ۱۲؍نومبر ۱۹۱۳ء صفحہ۱۵) ۵۳،۵۴۔ اَلْبَاطِلُ: جس کی کچھ حقیقت نہ ہو۔: کتبِ سابقہ (یسعیاہ نبی باب ۳۰) میں یہ بات مقرر نہ ہوتی کہ عذاب اس وقت آئے گا جب نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم مکّہ سے چلے جائیں گے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۸؍اگست ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۹۷) : لَوْلَا اُنْزِلَ عَلَیْہِ اٰیٰتٌ کا جواب ہے۔(تشحیذالاذہان جلد۸ نمبر۹ صفحہ۴۷۳ ماہ ستمبر