حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 318
۳۹۔ : ہند میں مُشرک بہت ہیں۔میں نے تحقیقات سے معلوم کیا ہے کہ یہ مشرکین بادشاہ کو سب سے بڑا دیوتا سمجھتے ہیں چنانچہ وہ کہتے ہیں کہ بادشاہ سولہ کلان سپورن ہوتا ہے۔اسی بناء پر وہ فرعون کو اِلہٰ سمجھتے ہیں۔: ہامان کوئی بڑا آفیسر ہے۔انجنیئر : یہ شرارت سے تمسخر کرتا ہے۔رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ پر۔ہامان کو کہتا ہے۔کوئی رصدگاہ بناؤ کہ دیکھیں موسٰی کا اس اِلٰہ سے کیا تعلق ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۱؍ اگست ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۹۳) ۴۵۔ : خدا نے مجھے یہ سمجھایا ہے کہ موسٰیؑ نے تین دفعہ رسولؐ اﷲ کی پیشگوئی کی ہے۔ان حالات کا ذکر ہے۔مَاکُنْتَ بِجَانِبِ الْغَرْبِيّ۔مَاکُنْتَ ثَاوِیًا وَ مَاکُنْتَ بِجَانِبِ الطُّوْرِ۔ایک یہ جہاں یہ حکم تھا کہ اوپر کوئی نہ آئے۔زلزلہ آیا۔آتش فشانی۔اس وقت حضرت موسٰیؑ نے حسب الحکم قوم کو اوپر بلایا۔مگر انہوں نے کہا۔ہم کیا۔ہماری اولاد بھی سننا نہیں چاہتی۔خدا نے کہا۔بہت اچھا۔اب یہ نبوّت تمہارے بھائیوں کو ملے گی۔غارِ حرا سے بھی مکّہ نیچے ہے۔یہ پیشگوئی باب۱۸ استثناء میں ہے۔پھر ۳۳ باب میں پیشگوئی ہے ’’۱۰۰۰۰ دس ہزار قدوسیوں کے ساتھ‘‘ پھر مدین میں کتاب پیدائش ۱۲ باب سے ۱۷ تک رسولؐ اﷲ کا ذکر ہے۔فرماتا ہے۔تیرے متعلق یہ تین پیشگوئیاں ہیں