حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 308
: قرآن مجید میں دوسرے مقام پر فرمایا کہ امام انسان اس وقت بنتا ہے جبکہ لوگوں کو ہدایت دے۔اور صبر سے کام لے۔اور ہماری آیات پر یقین پیدا کرے۔فرمایا (سجدہ:۲۵) : وہ شام وغیرہ کے وارث ہوئے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۱؍ اگست ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۹۲) : ہمارا یہ ارادہ رہتا ہے۔مسلمان اس نکتہ کو سمجھیں وہ تکبّر و فضولی چھوڑ دیں تو خدا انہیں ائمہ بنادے۔(تشحیذالاذہان جلد۸ نمبر۹ صفحہ۴۷۱ ماہ ستمبر ۱۹۱۳ء) خدا جو کہ قادر مقتدر ہستی اور ربّ العٰلمین ہے۔اس نے یہ قاعدہ بنا دیا ہے کہ مامورین اور مُرسلوں کے ساتھ ابتداء میں معمولی اور غریب لوگ ہی شامل ہوا کرتے ہیں اور جتنے اکابر اور بڑے بڑے مدبّر کہلانے والے ہوتے ہیں وہ ان کے مقابل میں کھڑے کر دئے جاتے ہیں تاکہ وہ اپنی سفلی کوششیں اُن کے نابود کر دینے میں صرف کر لیں۔اور اپنے سارے زوروں سے ان مُرسلوں کی بیخ کنی کے منصوبے کر لیں۔پھر ان کو ذلیل اور پست کر دیا جاتا ہے۔اور خدا کے بند وں کی فتح اور نصرت ہوتی ہے اور وہی آخر کار کامیاب اور مظفر و منصور ہوتے ہیں۔اور یہ سب کچھ اس لئے ہوتا ہے۔کہ تا کوئی خدائی سلسلہ پر احسان نہ رکھے۔بلکہ خدا کی قدرت نمائی اور ذرّہ نوازی کا ایک بیّن ثبوت ہو کر ان مومن ضعفاء کے دلوں میں ایمانی ترقّی ہو اور ان کے دلوں میں خدا کے عطایا اس کی قدرتوں اور کَرموں کے گُن گانے کے جوش پیدا ہوں۔پس تم اس خیال کو کبھی بھی دل میں جگہ نہ دو۔کہ اکابر اور بڑے بڑے مال دار اور رؤسائِ عِظَام تمہارے ساتھ نہیں ہیں۔اگر تم ذلیل ہو تو تم سے پہلے بھی کئی گروہ تمہاری طرح کے ذلیل گزرے ہیں۔مگر آخر کار کامیابی کاتمغہ ایسے پاک اور مومن ذلیلوں ہی کو عطا کیا جایا کرتا ہے۔دیکھو موسٰیؑ کے مقابلہ میں فرعون کیسا زبردست اور جبروت والا بادشاہ تھا۔مگر خدا نے اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا۔فرمایا کہ ۔کس طرح سے ان ضعیف اور کمزور لوگوں کو اپنے احسان سے امام اور بادشاہ بنا دیا۔دیکھو یہ باتیں صرف کہنے ہی کی نہیں۔بلکہ عمل کرنے کی ہیں۔عمل کے اصول کے واسطے کہنے والوں پر حُسنِ ظن ہونا ضروری اور لازمی امر ہے۔اگر دل میں ہو کہ کہنے والا مرتد فاسق و