حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 291
: یہ قرآن شریف میں خطوط کا نمونہ ہے۔بڑے بڑے القاب و آداب لکھنے والے عبرت پکڑیں۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۱؍۲۸؍جولائی ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۸۹) زمانے نے بہت ترقی کی ہے۔اور آجکل کی تہذیب کو انسانی ترقیات کا انتہائی زینہ قرار دیا جاتا ہے اور جن باتوں پر ناز ہے۔ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ خطوط میں بے سروپا طول طویل القاب نہیں۔مشکل ترکیبیں نہیں۔جن کے مبتدا کی خبر دوسرے چوتھے ورق پر جا نکلتی ہو۔مگر دیکھو۔قرآن مجید نے تیرہ سو برس پہلے ایک خط کا نمونہ دیا۔جو کئی سو برس پہلے کا ہے۔اور حقیقی مہذّب گروہ کے ایک ممبر کا لکھا ہوا ہے اور وہ یہ ہے کہ ۔اس سے زیادہ مختصر نویسی پھر جامع مانع کلمات اور عمدہ طرزِ تحریر کیا ہو سکتی ہے اس نمونہ پر حضرت نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے خطوط ہیں۔جو معتبر روایات سے ثابت ہیں۔بلکہ بعض کے اصل بھی مل گئے ہیں۔(تشحیذالاذہان جلد۶ نمبر۱۱ صفحہ۴۳۵ ماہ نومبر ۱۹۱۱ء) ۳۳۔ حضرت سلیمانؑ کی نسبت یہ غلط طعنہ ہے کہ آپ (نعوذ باﷲ ) ایک عورت کے عشق میں مبتلا ہو کر بُت پرست بھی ہو گئے۔قرآن کریم ایسے تمام مطاعن کی تردید کرتا ہے۔کیونکہ ایسے بیہودہ و مضر قصص سے تمام راست بازوں کی ذات سُتُوْدَہْ صفات پر حملہ ہوتا ہے۔اس رکوع میں بتایا گیا ہے کہ وہ عورت خود بھی مُشرک نہ تھی چہ جائیکہ حضرت سلیمان ایسے ہوتے۔: یہ ہر ایک سعادت مند دانشور انسان کا قاعدہ ہے کہ اہم امور میں مشورہ کر لیتا ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۱؍۲۸؍جولائی ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۸۹۔۱۹۰) ۳۶،۳۷۔