حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 288
حضرت سلیمانؑ نے سواروں کا یا چڑیاخانہ کا جائزہ لیا تو دیکھا کہ ہُد ہُد غائب ہے۔آدمیوں کے نام بھی جانوروں کے نام سے ہوتے ہیں۔جیسے قوموں کے چیتے۔شیر۔باز۔سمندر۔سورداس وغیرہ۔کہا۔میں اُس کو عذاب سخت کروں گا۔یا ذبح کروں گا۔ہاں اگر کوئی وجہ معقول اپنی غیر حاضری کی بیان کرے۔کسی شخص نے اعتراض کیا۔کہ ذبح سے معلوم ہوتا ہے کہ ہُد ہُد انسان نہیں تھا بلکہ پرندہ ہی تھا۔کیونکہ ذبح کا لفظ ؔ جانوروں پر ہی بولا جاتا ہے۔انسان کیلئے تو قتل کا لفظ مستعمل ہے۔یہ اعتراض کسی مولوی صاحب کا تھا تو ان کو ہمارے ایک دوست امیر الدّین صاحب کمبل باف گجرات نے جو ہماری جماعت کا ہے جواب دیا کہ پہلے پارہ میں ہے (البقرہ:۵۰) آیا ہے۔تو مولوی صاحب نے کہا۔بنی اسرائیل کی اولاد انسان نہ تھی۔سارے جانور ہی تھے۔(بدر ۱۷؍ اگست ۱۹۰۵ء صفحہ۶) ایک آریہ کے اس اعتراض پر کہ حضرت سلیمانؑ پرندوں کی بولی کیونکر سمجھتے تھے جواب میں فرمایا۔کیا تم مانتے ہو کہ نہیں کہ اﷲ تعالیٰ جانوروں کی باتیں سنتا اور سمجھتا ہے اگر سنتا ہے اور سمجھتا ہے کیونکہ وہ گیانمے(علیم) چت سروپ ہے تو پھر اس کے مقرّب اور اس میں لَے ہونے والے پاک بندے ان جانوروں کی باتیں کیوں نہیں سن سکتے۔ہم نے پرتیکش (محسوس) تجربہ کیا ہے کہ ایک دنیا کے جاہ و حشم والے کے ساتھ جس قدر کسی کا تعلق بڑھتا جاتا ہے اسی قدرجاہ و حشم والے کی طاقتیں اس مقرّب پر اپنا عکس ( پرتے بمب) ڈالتی اور وہ مقرّب بھی صاحب گو نہ جاہ و چشم ہو جاتا ہے۔تو سرب شکتیمان ( القادر) عالَم کُل۔ہمہ طاقت جناب الہٰی کے قرب سے مقرّب کو ان طاقتوں سے ذرا اثر نہ ہو۔یہ کیونکر خیال میں آ سکتا ہے۔ہم نے تو جانوروں سے بدتر کلام کرنے والے پال کی بات کو سمجھ لیا۔سلیمانؑ جانوروں کی باتیں کیوں نہ سمجھے ہوں۔اور سنو! اگر ہُد ہُد سے بات نہیں ہو سکتی۔تو اگنی سے رگ وید کو تمہارے بڑوں نے کس طرح اور کیونکر سُنا؟ کیا آگ بات کر سکتی ہے؟ کہ وید جیسی بَانِیْ تم کو سُنا گئی اور آئندہ بھی سُنائے گی۔سُنو اور غور کرو۔تمہیں کچھ معلوم ہے کہ انڈیا میں مشہور نیک بخت والدین کے فرماں بردارفرزند راجہ رامؔ چندرجی گزرے ہیں۔جب ان کو بن باس کے وقت لنکا کے شریر راجے نے دُکھ دیا تو ہنومانؔجی ان کے بِیْر اور داس نے ان کی کیسی خدمت کی۔ہنومان کو تم خوب جانتے ہو کہ وہ بانر(بندر) تھے۔اور رات دن رامچندر جی سے باتیں کرتے اور رام جی اس بندر سے باتیں کرتے۔اسی بندر کی وجہ سے آریہ ورت کے بندر آج تک مکرّم و معظم ہیں۔اگر یہ سچ ہے کہ ہنومان جی بندر تھے اور رام چندر سے ان کا مکالمہ ہوتا تھا تو ہُد ہُد اور سلیمانؔ کے مکالمہ پر تمہیں تعجّب کیوں ہے۔سنو! جو حقیقت ہنومان کے لفظ کے نیچے