حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 287
کر سکتے تھے۔پھر مادریؔ اور کنتی ؔکے متعلق یہ کہنا کہ انہوں نے سورج۔وایو۔چندر ماں سے بیٹے لئے کیونکر صحیح ہو گا۔عناصر کیونکر جماع کر سکتے تھے اور ان کا نطفہ کیونکر رہ سکتا تھا۔پھر ارجن نے ناگنی ( سانپنی) سے شادی کس طرح کی۔سملاس ۱؎ نمبر۸صفحہ ۲۹۸ دیانند نے ستیارتھ میں پاربتی ناگی۔تلسی۔گلابی۔گیندا۔گنگا۔کوکلا سے شادی کرنے کی کیوں ممانعت کر دی۔بتاؤ تو سہی۔کیا کوئی ان نباتات و حیوان سے شادی کر سکتا ہے؟ اور سُنو! تمہارے آریہ ورتی اعتقاد رکھتے تھے کہ زمین۔بیل کے سہارے قائم ہے۔مگر آجکل کی نکتہ چینی سے بچنے کیلئے تمہارے مہارِشی نے اکھشاؔ کے معنی میں جس کے سنسکرت میں بیلؔ کے معنے بھی ہیں۔کہہ دیا کہ یہاں یہ معنے مناسب نہیں کیونکہ یہاں سورج کو زمین کے سیراب کرنے کی وجہ سے اکھشاؔ کہا گیا ہے۔اب ہم اصل حقیقت کا اظہار کرتے ہیں۔قاموس اللغہ میں برقہؔ لغت کے نیچے لکھا ہے البرقۃ مِنْ مَّیَاہِ نَمْلَۃٍ یعنی برقہؔ نملہ قوم کے پانیوں ( چشموں ) سے ایک چشمہ ہے۔طائف عرب کا ایک مشہور شہر ہے اس کے اوریمن کے درمیان یہ وادی نملہ واقع ہے۔اس وادی میں سے سونا نکلتا ہے۔سونے کے باریک ذرّوں کو جو قوم چُنتی اور اکٹھا کرتی ہے اس کو نمل کہتے ہیں کیونکہ چھوٹے چھوٹے ذرّات کا جمع کرنا کیڑوں کا کام ہے۔ہمارے ملک میں بھی تھوڑا تھوڑا طعام جمع کرنے والوں کیراؔ کہتے ہیں۔اور ایسی عورتیں اپنے آپ کو اور لوگ ان کو کیریؔ کہتے ہیں۔اورکیریؔ ؔ کا ٹھیک ترجمہ نملہؔہے۔گوندل بار میں ڈَڈ۔چُوہے اور مالیر کوٹلہ میں مورکٹانے قومیں اب بھی موجود ہیں۔اکھشاؔ کا ترجمہ بیلؔ کی جگہ سورجؔ بنانے والو! تمہیں سمجھ پیدا ہو۔بیل کے بدلہ سورج تو بنا لیتے ہو اور دوسری قوموں پر اعتراض کرنے کو تیار ہو جاتے ہو۔اگرچہ ان کے ہاں قرائن قَوِیّہ مرجحّہ موجود ہوں۔اس بیدادگری اور ناحق کی دل آزاری سے تم کس برومندی اور بہبود کی توقع رکھتے ہو! (نورالدّین طبع ثالث صفحہ۱۵۹) ۲۱،۲۲۔ ۱؎ ستیارتھ پرکاش کا۔مرتّب