حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 286
: یہاں ایک لطیف نکتہ ہے کہ پہلے کہہ کر صریحاً ایک الزام لگایا۔مگر ساتھ ہی سے ازالہ کر دیا۔شیعہ پر افسوس کہ وہ نملہ جیسا حسنِ ظن بھی صحابہ نبیؐ پر نہیں رکھتے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۱؍۲۸ جولائی ۱۹۱۰ء) جب حضرت سلیمانؑ مع لشکر وادی نمل پر پہنچے تو نملہ نے کہا۔اے نملو۔اپنے اپنے مکانوں میں چلے جاؤ۔ایسا نہ ہو کہ سلیمانؑ اور اس کا لشکر تم کو کچل ڈالے اور ان کو تمہارے اس کچلنے کی خبر بھی نہ ہو۔قاموس میں جو لغت کی کتاب ہے۔لفظ برقؔ کی تفصیل میں لکھا ہے جہاں پانیوں کا ذکر کیا ہے۔کہ برقہؔ نملہ کے پانیوں میں سے ہے۔اس وادی میں سونے کے ذرّات ریگ میں ہیں۔وہ لوگ ان باریک ذرّات کو چُن کر گزارہ کرتے ہیں۔اس لئے ان کا نام نملہ ہوا۔جیسے اب بھی پنجابی کِیرا سائل کو کہتے ہیں۔جو ایک ایک لقمہ ہر گھر سے لے کر جمع کرتا ہے۔ضلع شاہ پور میں ڈڈوْ ( مینڈک)۔چوہا۔لومڑ ( ثعلب) وغیرہ اقوام اب بھی موجود ہیں۔پنڈدادنخان میں کیڑیانوالی گلی ( کوچہ) ہے۔اس میں قوم کیڑے رہتے ہیں۔ہارون رشید بھی دورہ کرتے کرتے اس وادی میں گیا تو اتفاقاً اس وقت بھی ان کی نمبردارنملہ ( عورت) ہی تھی۔اس نے ایک کیسہ ۱؎ سونے کے ذرّات کا ہدیہ ہارون رشید کے پاس پیش کیا۔ہارون رشید نے تعجّب کیا اور کہاکہ تم غریب آدمی ہو۔تمہارے کام آوے گا۔نملہ نے کہا۔جب حضرت سلیمان علیہ السلام اس وادی میں آئے تھے۔تو ہمارے بڑوں نے اس کو بھی یہی ہدیہ پیش کیا تھا۔اب تُو اس اُمّت کا سلیمان ہے تم کو اﷲ تعالیٰ کا شکر کرنا چاہیئے کہ اﷲ تعالیٰ نے تجھے بھی وہ موقع دیا ہے۔تفسیرِ کبیر ۲؎ میںاس موقعہ پر ایک لطیفہ لکھا ہے کہ نملہ نے کہا کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے ۱؎ تھیلی۔۲؎ مفاتیح الغیب امام رازی۔مرتّب زیر اثر اور تعلیم والے فوج پر یہ ظن تو نہیں ہو سکتا کہ وہ دیدہ ودانستہ کسی کو کچل ڈالے یا ظلم کرے۔اس لئے بلحاظادب کے کہا کہ شاید ان کی بے خبری میں کسی کو نقصان پہنچے مگررافضی لوگ کیسے بے ادب ہیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے ۲۳ سالہ تربیت یافتہ صحابہ ؓ کو ظالم ، غاصب قرار دیتے ہیں۔(بدر ۱۰؍اگست۱۹۰۵ء صفحہ۳ نیز تشحیذالاذہان جلد۶ نمبر۱۱ صفحہ۴۳۵) ’’ اگر سلیمانؑ نملہ سے بات نہیں کر سکے اور نہ اس کی بات سُن سکے ہیں تو یقین پڑتا ہے کہ اگنی۔وایو۔ادت۔انگرہ کے ذریعہ وید کا پہنچنا بھی غلط ہے۔سنو! نملہ کیڑی تو آخرحیوان ہے۔آگ۔ہوا۔ادت۔سورج۔انگرہ تو بسائط و عناصر ہیں۔جب ایک حیوان بات نہیں کر سکتا تو عناصر کیونکر بات