حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 285
مذہب کو ہنسی میں بھی اڑانے لگے۔دوسرے اعتراضوں کے ساتھ لفظ جنّ پر بھی اعتراض ہیں۔بعض نے لفظ جنّ کی ایسی توجیہ کی۔جس کا ثبوت عربی زبان یا حضرات صحابہ ؓ سے نہیں دیا گیا۔بعض نے کہا کہ مخاطب لوگ چونکہ جنّ کو ایک مخلوق مانتے تھے۔اس لئے اﷲ تعالیٰ نے ان کیمسلّمات کے لحاظ سے اس لفظ کو استعمال کیا۔یہ دونوں باتیں غلط ہیں۔قرآن مجید میں جو کچھ بیان ہوتا ہے۔بلحاظ واقعات حقّہ کے ہوتا ہے۔جنّ کے معنے جو چیز عام نظروں میں نہ آوے مثلاً آجکل طاعون کا کیڑا جو عام نظروں میں تو نہیں آ سکتا۔مگر اﷲ تعالیٰ نے منکروں کے لئے حجّت قائم کرنے کو اس کیڑے کو پیدا کر دیا۔اور وہ دیکھے گئے۔غرض شریر۔گندہ۔مشرک۔بڑے کافر کو بھی جنّ کہا ہے۔اس سے بدتر وہ ارواحِ خبیثہ ہیں۔جن سے بدی کے تحریک ہوتے ہیں۔حضرت سلیمانؑ کے وقت شریر بڑے سردار اور کچھ پہاڑی لوگ بھی تھے۔ان کو جنّ کہا گیا ہے۔طَیْرؔ بہادر سوار۔عرب میں بہادروں اور عمدہ فوجوں کی تعریف یہ بھی کی جاتی ہے۔کہ ان کے ساتھ پرندے رہتے ہیں۔یعنی یہ دشمن کو ہلاک کرتے ہیں۔اور پھر پرندے ان کا گوشت نوچ نوچ کر کھاتے ہیں۔اور ان کے دفن کا مجاز نہیں ہوتا۔(بدر ۱۰؍اگست ۱۹۰۵ء صفحہ۳) : امیر لوگ۔غریب لوگ فاتح قوموں کی تعریف میں کہا جاتا ہے کہ پرندے ان کے ساتھ اڑتے ہیں تاکہ دشمن کی لاشیں کھائیں۔(تشحیذالاذہان جلد۸ نمبر۹ صفحہ۴۷۰) ۱۹۔ : طائف کے پاس سونے کے ذرّات نکلنے کا ایک نالہ ہے۔ان کو چننے والوں کا نام نملہؔ ہے۔ہمارے ملک میں بھی ایسے لوگوں کو کیرے کہتے ہیں۔اور اس قسم کی کئی قومیں ہیں۔مثلاً۔مورکٹانے چوہے۔ایک کتاب میں لکھا ہے ہارون الرشید کے آگے ایک عورت نے تھیلی پیش کی اور کہا۔ہمارے ملک میں ایک دفعہ سلیمانؑ بھی آئے تھے۔قاموس میں برق کے آگے لکھا ہے۔کہ اَلْبَرقَۃُ مِنْ مِّیَاہِ نَمْلَۃ َ ( برق نملہ کے پانیوںمیں سے گے