حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 284 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 284

حضرت سلیمانؑ حضرت داؤدؑ کا وارث ہوا ( علم و کمالات روحانی میں) اور کہا۔اے لوگو! ہم کو علم منطق الطیر سکھلایا گیا۔علم منطق الطیر کو یونانی میں ارنیؔ سولوجیا۔سنسکرت میں بسنتؔراج۔عبری میں و برہاؔ عَرف کہتے ہیں۔یہ بڑا بھاری علم ہے۔اس علم کے ایک شعبہ آوازوں سے شکاری لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں طبیب علاج میں اور سیاّح پانی۔آبادی راستوں کا پتہ ان کے ذریعہ لگاتے ہیں۔روحانی لوگ کشف والے ان کے حالات سے اعلیٰ سے اعلیٰ عجائبات حاصل کرتے ہیں۔حضرت سلیمانؑ کو دونوں قسم کے فوائد ظاہری و باطنی منطق الطیر سے حاصل تھے۔علاوہ اس علم کے سب خبر ہم کو اﷲ تعالیٰ کے فضل و کرم سے مل گئی ہے۔بعض جاہل کے لفظ سے دھوکہ کھاتے ہیں۔اور جاہل قرآن سے دُور جاتے ہیں (انعام:۱۵۵)قرآن کریم کی مدح میں آیا ہے پس اس سے وہ یہ امر نکالتے ہیں کہ ہر ایک عمل قرآن میں ہے۔حالانکہ یہ بات غلط ہے۔اس جگہ اگر وہی معنے کئے جائیں تو پھر ریل۔تار۔ڈاک۔مطابع اور نئی نئی آج کل ایجادیں بھی ان کے پاس ہونی چاہئیں اور کم سے کم ہم لوگ بھی ان کی رعایا اور نوکر موجود ہوں۔پس ایسے معانی کُلّؔ کیلئے غلط ہیں۔کُلّؔ کا لفظ ہاں کُلّؔ کا لفظ موقع اور حیثیت کے لحاظ سے بولا جاتا ہے۔: بے شک یہ کُھلا فضل اﷲ تعالیٰ کا ہے۔(بدر ۱۰؍اگست ۱۹۰۵ء صفحہ۳) : یوں تو حضرت داؤدؑ کے انیس لڑ کے تھے۔مگر علمی وارث سلیمانؑ ہوئے۔: ایک منطق الطیّر اس علم کا نام ہے جو انبیاء کو عطا ہوتا ہے۔دوسرا وہ جو حکماء کو۔تیسرا تجربہ کاروں کو۔سلیمان علیہ السلام کو تینوں علم بخشے گئے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۱؍۲۸؍جولائی ۱۹۱۰ء) ۱۸۔  اور جمع کیا گیا۔سلیمانؑ کا لشکر جنّ و انس اور طیر سے اور وہ الگ الگ بنائے گئے۔عیسوی انیسویں صدی یا تیرہویں صدی ہجری نے ہر قوم و مذہب پر اعتراض تو پیدا کئے۔مگر بجائے جواب دینے کے شبہات پر شبہات اس قدر بڑھ گئے ہیں کہ بعض لوگ یا علی العموم عملاً مذہب سے دست بردار ہو گئے۔بعض