حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 283
وہ قرآن کے ایک حصّہ میں آ گیا۔(تشحیذالاذہان جلد ۸ نمبر۹ صفحہ۴۷۰) اﷲ کا نام ربّ ہے۔ربّ کے معنے ادنیٰ درجہ اور ادنیٰ حالت سے اعلیٰ درجہ تک پہنچانے والا نباتات۔حیوانات۔جمادات سب میں یہی حالت ہے۔بَڑ کا تخم دیکھو۔کھجور کی گٹھلی کی پُشت پر جو باریک نشیب ہوتا ہے۔اس کو دیکھو۔پھر دیکھو کھجور کا اور بَڑ کا کتنا بڑا درخت بن جاتا ہے۔ابراہیمؑ بڑا آدمی ہے مگر اسکے باپ کے نام کی نسبت بحث ہے۔کہ اس کا کیا نام تھا۔بعض آذر کو ان کا باپ مانتے ہیں۔بعض اس کے خلاف کہتے ہیں۔مگر ابراہیمؑ کو اﷲ تعالیٰ نے کس قدر بڑھایا کہ امریکہ اور یورپ نے جس کوخدا کہا وہ بھی اسی کی نسل کا ایک انسان تھا۔آج مسلمان باوجود اختلاف مذہب سارے کے سارے کَمَاصَلَّیْتَ عَلٰی اِبْرَاھِیْمَ پڑھتے ہیں۔یہود اور عیسائیوں کو اس کی نسل سے ہونے کا فخر ہے۔غرض خدا تعالیٰ جس بیج کو بڑھاتا ہے۔وہ کتنا بڑا ہو سکتا ہے۔اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے۔ہم نے دیا تھا داؤدؑ اور سلیمانؑ کو علم۔علم ایک بے نظیر۔عزّت بڑھانے والی نعمتِ الہٰی ہے۔کتّا جو ذلیل ترین حیوانات ہے جب اس کو شکار کرنے کا علم ہو جائے۔اس کی کتنی عزّت ہو جاتی ہے۔اسی طرح باز ایک وحشی پرندہ ہے مگر سیکھا ہوا کیسا معزّز ہو جاتا ہے۔غرض جس قدر علم زیادہ ہوتا جاتا ہے۔اسی قدر عزّت زیادہ ہوتی جاتی ہے۔بلکہ انسان عالم انسان جاہل سے کتنا زیادہ معظّم ہوتا ہے اور ملائکہ میں بھی علم کے مدارج سے ہی ترقی ہے۔اﷲ تعالیٰ نے جناب رسول اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم کو ترقی ٔ علم کی دعا سکھائی اور فرمایا (طٰہٰ:۱۱۵) اسی واسطے اس جگہ اﷲ تعالیٰ نے علم کا ہی احسان جتلایا۔چونکہ شُکرسے نعمت میں ترقی ہوتی ہے۔ اس لئے انہوں نے بطور شکرِ نعمت عرض کیا۔کہ انہوں نے کہا۔تمام تعریف اﷲ تعالیٰ کو ہے۔جس نے ہم کو فضیلت دی اپنے بہت سے مومن بندوں پر۔شریروں بدمعاشوں پر نہیں کہا۔بلکہ اکثر مومنین سے بھی فضیلت کا ملنا بیان فرمایا۔حضرت داؤدؑ کے انیس لڑکے تھے۔مگر یہ فضیلت صرف سلیمانؑ کوہی ملی۔۱۷۔