حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 280
بھی نزول تھا اور یہ بات یاد رکھنے کے لائق ہے کہ جب کسی رسول اور نبی پر وحی اترتی ہے۔تو فرشتوں کا بھی اﷲ تعالیٰ کی طرف سے اس وحی کی حفاظت کیلئے نزول ہوتا ہے تاکہ رحمانی وحی کے ساتھ کسی قسم کا شیطانی دخل نہ ہو جائے۔چنانچہ اﷲ تعالیٰ سورۃ جنّ میں فرماتا ہے۔۔(الجن:۲۷،۲۸)پس اس آیت سے مطلب صاف ہو گیا کہ مَنْ حَوْلَھَا سے مراد اس جگہ ملائکہ کا نزول تھا جو اس وقت وحی الہٰی کے ساتھ جو حضرت موسٰیؑ پر ہوئی تھی موجود تھے۔(بدر ۲۰؍جولائی ۱۹۰۵ صفحہ۲) ۱۰۔۱۱۔ : اپنا عصا رکھ دو۔: سٹک : آگ کے نظارہ سے مراد جنگ ہے۔گویا سمجھایا گیا کہ بڑی جنگوں سے تجھے واسطہ پڑے گا۔قرآن کریم نے اس مسئلہ کو خوب کھولا ہے۔ (المائدہ:۶۵)اور سانپ کے نظارہ سے یہ بتایا کہ تُو اکیلا نہیں رہے گا۔بلکہ تیری جماعت سانپ کی طرح ان دشمنوں کو کھا جاوے گی۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۱؍۲۸؍جولائی ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۸۹) اے موسیٰ بات یہی ہے کہ میں ہی اﷲ غالب حکمت والا ہوں۔لاٹھی رکھ دے یعنی تجھے عزّت اور غلبہ دوں گا۔یہ بشریٰ ہے۔: سو جب دیکھا تو گویا وہ ایک سِٹک (چھوٹا سانپ) کی طرح جنبش کرتا ہے بھاگا اور مڑ کے بھی نہ دیکھا۔