حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 279 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 279

علیم بھی ہے مومنوں کی دعائیں سنتا اور اُن کے ہدایت پر چلنے کو دیکھتا اور بُشریٰ دیتا۔اس کی ایک مثال جس کا ثبوت اسی دنیا میں نقد موجود ہے۔یہ ہے کہ ۔جب کہا موسیٰ نے اپنے ساتھیوں کو کہ میں نے آگ دیکھی ہے اور یہ نظارہ مجھے بھلا معلوم ہوتا ہے  لاؤں گا تمہارے لئے کوئی خبر یا لاؤں گا تمہارے لئے جلتا ہوا انگارہ۔تاکہ تم تاپو۔آرام پاؤ۔سینکو۔آجکل بڑے آدمی اپنے ماتحتوں یا کم درجہ والے لوگوں یا ساتھیوں کو کام کیلئے بھیجتے ہیں۔مگر انبیاء خود مفید اور ضروری اور مشکل کام کرتے اور دوسروں کو آرام دیتے ہیں۔یہ قابلِ غور اور قابلِ تقلید امر ہے۔اب ہر ایک انسان اپنے اندر غور کرے کیا وہ ایسا کرتا ہے کہ مشکل کام خود کرے اور دوسروں کو آرام دے۔ایک دفعہ جناب رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم چند صحابہؓ کے ساتھ جنگل میں تھے۔کھانے پکانے کے وقت تمام صحابہؓ پر کام تقسیم کر دیا۔آخر فرمایا کہ اب سب کام تقسیم ہو گئے تو لکڑیاں میں لاؤں گا۔وہ حیران ہو گئے۔مشکل کام اپنے لئے رکھ لیا۔کیسا پاک نمونہ ہے۔(بدر ۲۰؍جولائی ۱۹۰۵ء صفحہ۲) ۹۔  : برکت دیا گیا ہے وہ شخص جو آگ کی طلب و جستجو میں ہے یہی معنے صحیح ہیں۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۱؍۲۸؍جولائی ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۸۹) جب وہاں پہنچے آواز دی گئی کہ جو شخص آگ کی طلب میں آیا ہے۔اس کو برکت دی گئی اور جو اس کے ارد گرد موجود ہیں اور پاک ہے اﷲ تعالیٰ پالنے والا جہانوں کا یعنی حضرت موسٰیؑ ظاہری طور پر خیر خواہ بنا۔اﷲ تعالیٰ نے اس کو روحانی طور پر خیر خواہ بنا دیا۔وہ تھوڑوں کا بنا۔ہم نے بہتوں کا بنا دیا۔وہ ظاہری روشنی کیلئے گیا۔ہم نے اندر کی روشنی بھی عطا کر دی۔ظاہری منزلِ مقصود کے طلب کیلئے گیا۔ہم نے باطنی منزلِ مقصود بھی دکھا دیا۔سبحان اﷲ۔یعنی پاک ہے۔مہتدی کو مہمل نہیں چھوڑتا۔اب ہر بشارتیں دیتا ہے۔(بدر ۲۰؍جولائی ۱۹۰۵ صفحہ۲،۶) اصل بات یہ ہے کہ یہ موقعہ حضرت موسٰیؑ کیلئے تجلّی الہٰی اور نزولِ وحی رحمانی کا تھا۔جس کے ساتھ ملائکہ