حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 277
َا ٓ اِلٰہَ اِلَّا اﷲُ وَحْدَہٗ لَاشَرِیْکَ لَہٗ وَ اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدً اعَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔اَللّٰھُمَّ اجْعَلْنِیْ مِنَ التَّوَّابِیْنَ وَ اجْعَلْنِیْ مِنَ الْمُتَطَھِّرِیْنَ۔یہ وضو ہوا۔: اور دیا کریں زکوٰۃ۔بدنی خدمات تو کسی قدر سہل ہیں۔مگر مال کا خرچ زیادہ مشکل ہوتا ہے ؎ گر جاں طلبی مضائقہ نیست زرمی طلبی سخن دریں است مگر مومن صادق کو مال کا خرچ کرنا مشکل نہیں ہوتا۔اسی واسطے اس کا نام صَدقہ ہے یعنی مومن کے صِدق کی علامت ہے وہ اﷲ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کیلئے اور مخلوق کی بہتری کیلئے مال خرچ کرتا ہے۔: اسی پر بس نہیں بلکہ وہ جزاء و سزا پر یقین رکھتے ہیں۔یہ تو ہدایت ہے۔۵۔ جو لوگ جزا و سزا کو نہیں مانتے۔ان کیلئے ہم نے انکے وہ نیک اعمال جو اُن کو کرنے چاہئیں عمدہ عمدہ پیرایوں میں خوبصورت کر کے دکھائے ( یہ ہدایت نامہ ہے) مگر شریر غور سے نہیں دیکھتے اندھوں کا سا کام کرتے ہیں۔مگر بُرے کام کو خوبصورت کر کے دکھانا شیطان کا کام ہے۔جیسے اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے۔(النحل:۶۴) شیطان نے انکو انکے بداعمال خوبصورت کر کے دکھا دئے۔نیک کام کا خوبصورت کر کے دکھانااﷲ تعالیٰ کا کام ہے۔ (حجرات:۸) اﷲ تعالیٰ نے ہی تمہارے دلوں میں ایمان محبوب بنایا اور خوبصورت کر کے دکھایا اُس کو تمہارے دلوں میں اور ناپسند کر کے دکھایا کفر۔بدعہدی۔بے فرمانی کو۔ایسی آیات قرآن مجید میں اور بہت ہیں۔جن میں صریح لفظوں میں فرمایا کہ بداعمال شیطان خوبصورت کر کے دکھلاتا ہے۔(بدر ۲۰؍جولائی ۱۹۰۵ء صفحہ۲) : ترجمہ جو عام طور پر کیا جاتا ہے۔وہ غلط ہے۔صحیح معنے یہ ہیں جو کام بندوں کو کرنے چاہئیں۔ہم نے ان کو نہایت خوبصورت کر کے پیش کیا ہے۔مگر جیسا کہ اندھا