حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 276 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 276

ؔالوصل اولیٰ۔صِل۔قد یوصل۔ج جائز۔ص وقفِ مرخّص حدیث میں ثنا حدّثنا۔نا ؔ اخبرنا۔طِبّ میں مَکَدْ من کل واحدٍ وغیرہ۔غرض تمام علوم عربی میں مقطعات سے کام لیا گیا ہے۔طٰس ٓ۔ط ؔسے اسمِ الہٰی لطیف اور س سیسمیعؔ مراد ہے۔یعنی یہ آیات قرآن اور کتاب کھول کر سنانے والے کی ہیں۔جو اﷲ لطیفؔ سمیعؔ کے حضور سے نازل ہوئی ہیں۔جیسے فرامین کے سر پر لکھا جاتا ہے اجلاس فلاں حاکم سے یہ حکم جاری ہوا ہے۔اسی طرح اس سورۃ کے سرے پر فرمایا گیا۔۳۔ ہدایت اور بُشریٰ مومنوں کیلئے ہے۔لطافتؔ سے ہدایت اور سمیعؔ سے مہتدی کو بُشریٰ ملتا ہے ہر ایک آسمانی مذہب والا اپنی کتاب کی نسبت ہادی اور بُشریٰ ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔مگر صرف دعوٰی قابلِ پذیرائی نہیں ہوتا۔جب تک ثبوت ساتھ نہ رکھتا ہو۔ثبوت کے لئے بعض مذاہب بعد الموت کا وعدہ کرتے ہیں اور سچا مذہب وہ ہے۔جس کے پاس وعدہ ہی وعدہ نہ ہو بلکہ نقد ثبوت بھی موجود ہو۔چنانچہ مذہبِ اسلام اسی دنیا میں ہدایت والے کو بُشریٰ کا وعدہ دیتا ہے۔قرآنِ مجید میں ہدایت بھی ہے اور جو ہدایت پر ایمان لاوے اور عمل کرے۔اس کو بُشریٰ بھی ہے ہدایت تو ہے۔۴۔  جو مضبوط رکھیں نماز کو۔ایک طریقِ ہدایت تو یہ ہے کہ عظیم الشان ذات کے سامنے خشوع خضوع سے قسم قسم کی نیازمندی کا اظہار کرے عظمت و جبروت الہٰی کو یاد کر کرکے ہاتھ باندھ کر غلاموں کی طرح۔حضور میں کھڑے ہونا۔جھُکنا۔زمین پر گر پڑنا اور پھر اپنے محسن صلی اﷲ علیہ وسلم پر درود بھیجنا۔دعائیں کرنا۔یہ تو نماز ہے۔ہاتھ پاؤں زبان ناک آنکھ کان سے اکثر کام ہوتے رہتے ہیں۔جو بعض ان میں غلطی پربھی مبنی ہوتے ہیں۔خصوصًا ناک تو ایسی چیز ہے کہ اس کے پیچھے انسان سب کچھ برباد کر دیتا ہے پس بقدر طاقت ان کو ظاہری طور پر صاف کرو۔اور باطنی پاکی اور صفائی کیلئے اﷲ تعالیٰ سے دعا کرو اسی واسطے جناب رسول اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم فرماتے ہیں بعد وضو کے پڑھواَشْھَدُ اَنْ لا