حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 275 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 275

سُوْرَۃُالنَّمْلِ مَکِّیَّۃٌ  ۲۔ : ط ؔکے معنی صحابہ ؓ نے لطیفؔ کئے ہیں۔اور سؔ کے معنے سمیعؔ۔ابن جریر نے اسے سورۂ نمل میں بیان کیا ہے۔مُبِیْنٍ: کھول کر سنانے والی (ضمیمہ اخبار بدر قادیان۲۱؍۲۸؍جولائی ۱۹۱۰ء) : لطیف وسمیع (تشحیذالاذہان جلد۸ نمبر۹ صفحہ۴۷۰) جس قدر دنیا میں مفید اور نفع رساں باتیں ہیں۔قرآن مجید میں بھی ضرور ان کا شمّہ موجود ہوتا ہے۔منجملہ اُن کے حروفِ مقطعات کے ساتھ اختصارِ کلام بھی ہے۔ہر زمانہ میں جب کسی نے کوئی اعتراض رسول اﷲ صلی اﷲعلیہ وسلم پر یا قرآن کریم پر کیا ہے۔وہی بات خود اُس کے اندر بھی پائی گئی ہے۔بلکہ وہ نمونہ اس سے بھی بڑھ کر یا بدتر معترض کے اندر بھی پایا گیا ہے۔آجکل طٰس ٓ۔یٰس ٓ۔طٰہٰ۔الٓر وغیرہ حروف مقطعاتِ قرآنی پر بھی اعتراض کیا گیا ہے۔کہ یہ حروف مُعَمَّہ کی طرح ہیں۔مگر یہ اعتراض ایسے وقت میں کیا گیا ہے۔کہ جب ساری مہذب دنیا استعمالِ مفردات میں مجبور کی گئی ہے۔انگریز تو یہ اعتراض کر ہی نہیں سکتے۔ان کے کارخانے۔سامان۔خطابات۔امتحانات۔اپنے ناموں وغیرہ میں استعمال حروفِ مفردات کا بکثرت موجود ہے۔ایف اے۔بی اے۔ایم اے وغیرہ۔آریہ کے خطوط و مکانات۔پر الف ؔ و ؔ م ؔ اوم لکھا جاتا ہے۔قرآنی حروف کی تفسیر صحابہؓ نے جیسے حضرت علیؓ۔ابن مسعودؓ۔ابن عباسؓ رضی اﷲ تعالیٰ عنھم نے کی ہے۔بعض تفاسیر میں بھی بہت لمبی تفسیر ان حروف کی بیان کی گئی ہے۔غرض کہ جو مضمون کسی سورۃ کا یا کوئی قصّہ سمجھ میں نہ آئے۔اور اس کا سمجھنا دشوار ہو تو کچھ اسماء الہٰیہ اُن کے ساتھ ہوتے ہیں۔پس وہ اسماء الہٰیہ اس سورہ اور قصّہ کے مضمون کے سمجھنے کیلئے کلید ہوتے ہیں۔جس کی وہ آیات مظہر ہوتی ہیں۔ان مفردات سے بڑا کام قرآن حدیث۔طبّ وغیرہ علوم میں لیا گیا ہے۔جیسے قرآن میں صلی