حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 266
کا نام تارا ۱؎ تھا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۴؍ جولائی ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۸۷) ۷۳تا۷۵۔ ابراہیمؑ نے کہا۔کیا یہ بُت تمہاری پکار کو سُنتے ہیں؟ یا کیا تم کو نفع دیتے ہیں؟ یا تم کو کوئی دُکھ دیتے ہیں؟ بت پرست لوگوں نے جواب دیا۔ہم بُت پرستی کی دلیل تو نہیں رکھتے۔مگر ہم نے اپنے بزرگوں کو پایا ہے۔کہ وہ ایسا ہی کرتے ہیں۔(تصدیق براہین احمدیہ صفحہ۲۹۰) : تعجب ہے کہ لوگ دنیا کے معاملات میں تو جدّت پسند ہیں مگر دین کے بارے میں کہہ دیتے ہیں۔کیا لوگ ریلوں اور سٹیمروں پر سوار نہیں ہوتے۔حالانکہ ان کے باپ دادا نہیں ہوئے۔یہ محض حیلہ سازیاں ہیں جو مشرکین اﷲ کی عبادت نہ کرنے کے لئے کیا کرتے تھے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۴؍ جولائی ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۸۷) ۷۶ تا ۷۸۔ تب ابراہیمؑ نے جواب میں کہا۔سُنو۔تم بُت پرستی کے معتقد تو کہا کرتے ہو کہ جن کی اﷲ تعالیٰ ربّ العٰلمین کے سوا کوئی بھی مجھے پیارا نہیں۔(تصدیق براہین احمدیہ صفحہ۲۹۱) : حضرت ابراہیم علیھم السّلام نے اعلان کر دیا کہ یہ بُت میرے دشمن ۱؎ تارح بھی آیا ہے۔