حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 257
سُوْرَۃُ الشُّعَرَآئِ مَکِّیَّۃٌ سورۃ شُعراء وغیرہ میں انبیاء علیھم الصلوٰۃ والسلام کے ان قصص کا بیان ہے۔جن میں انبیاء علیھم السلام کے ساتھ ان کے دشمنوں کے مقابلوں کا تذکرہ ہوتا ہے اور مخالفوں کی بے وجہ تکذیب کا آخری نتیجہ اور دائمی ثمر ہ بتایا جاتا ہے اور پھر آخر میں ہر قصّہ کے یوں کہا جاتا ہے۔ (الشُّعَرَآئِ :۹) اسی سورۃ میں حضرت نوح علیہ السلام کے اعداء نے جب نوح علیہ السلام کو یہ کہہ کر وعظ سے روکا۔(الشُّعَرَآئِ :۱۱۷) اگرتو اس منادی سے اے نوح نہ رکا تو تجھ پر پتھراؤ کیا جاوے گا۔اس وقت حضرت علیہ السلام نے یہی فرمایا اور اس طرح دعا کی۔۔ (الشُّعَرَآئِ :۱۱۸،۱۱۹)اے میرے رب میری قوم نے مجھے جھٹلایا۔تو میرے اور ان کے درمیان فیصلہ کر دے اور مجھے اور میرے ساتھ والے ایمان والوں کو بچا لے۔پھر جو نتیجہ نکلا اس کا بیان ہے۔۔۔(الشُّعَرَآئِ :۱۲۰تا ۱۲۲) پھر بچا لیا ہم نے اسے اور اس کے ساتھ والوں کو بھری کشتی میں اور غرق کر دیا اس کے پیچھے سب کو۔لاریب اس قصّہ میں ایک نشان معجزہ ہے۔اسی طرح اس سورۃ شعراء میں قومِ عاد کا جنابِ ہود علیہ السلام سے مقابلہ اور قومِ ثمود کا حضرت صالح علیہ السلام سے جھگڑا اور قومِ لوط کا جنابِ لوط علیہ السلام کے مواعظِ حسنہ پرکان نہ دھرنا ایسی ہی طرز سے بیان ہوتا ہے۔(تصدیق براہین احمدیہ صفحہ۱۴۔۱۵)