حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 23 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 23

 اس سے پہلے رکوعوں میں دنیا کی زیب و زینت۔صنعت اور ترقی کا ذکر ہے کہ لوگ اس میں پھنس کر دین سے اکثر غافل ہو جاتے ہیں۔اگر دنیا کو بالکل ترک کیا جائے تو بھی دین میں حرج ہوتا ہے۔اور (البقرۃ:۲۰۲)کے خلاف ہے اس واسطے میانہ راہ اختیار کرنی چاہیئے ایک روایت میں ابلیس کے متعلق آیا ہے کہ کَانَ مِنْ خُزَّانِ الْجَنَّۃِ۔اس ملک میں بڑے خزانوں والا تھا۔اسی کبریائی نے اسے ہلاک کر دیا۔ان آیات میں جو ذکر ہے۔اس سے عبرت حاصل کرنی چاہیئے۔اسْجُدُوْا: فرماں برداری کرو۔بہت سے فرشتوں کو یہ حکم ہوا تھا۔ابلیس کو الگ حکم ہوا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان۱۷،۲۴مارچ ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۵۸ ) ۵۴۔  : پس انہوں نے یقین کر لیا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان۱۷،۲۴مارچ ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۵۸ ) ۵۵۔ عام رواج دنیا میں دیکھا گیا ہے کہ جو لوگ پڑھے لکھے ہیں اور اپنے آپ کو عقلمند سمجھتے ہیں۔ان کی یہ حالت ہے کہ جب وعظ میں ان کو کوئی نظیر دو۔تو اس نظیر کو اپنے پر صادق نہیں آنے دیتے۔مثلاً اگر کہا جاوے۔فلاں نے بدی کی اور سزا پائی۔تو کہتے ہیں کیا ہم وہ ہیں۔اگر نبی۔ولی صحابی کا حوالہ دیں کہ انہوں نے ایسا کیا تم بھی ایسا کرو۔تو کہتے ہیں ہم نبی ہیں یا ولی یا صحابی پھر یا تو واعظ کو نادان قرار دیتے ہیں یا آپ اپنی تحقیق پر خوش و خرم۔مگر انبیاء سے بڑھ کر کون قولِ مُوَجَّہ کے ساتھ سمجھانے والا ہے۔آخر وہ بھی ارشاد فرماتے جاتے ہیں کوئی مانے یا نہ مانے۔