حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 243 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 243

۱۶۔  : وہ جنّت جس میں آدم علیہ السلام رہے۔وہ زمین پر تھا… ’’وَالْقَوْلُ بِاَنَّھَاجَنَّۃٌ فِی الْاَرْضِ لَیْسَتْ بِجَنَّۃِ الْخُلْدِ‘‘قول ابی حنیفہ و اصحابہ رضی اﷲ عنہ… ۱۔ جس میں نیک لوگ موت کے بعد داخل ہوں گے۔اس کی صفت میں قرآن کریم فرماتا ہے۔وہ دارالمقام ہے۔وہ ایسی جگہ ہے جہاں داخل ہو کر پھر لوگ نہ نکلیں گے۔اور آدم علیہ السلام جس جنّت میں رہے۔وہاں سے نکالے گئے۔۲۔ دارِ تکلیف نہیں اور جہاں آدم علیہ السلام رہتے تھے وہاں درخت کے نزدیک جانے سے ممانعت اور شرعی تکلیف ان پر قائم تھی۔۳۔ کو اﷲ تعالیٰ دارالسلام فرماتا ہے۔اور آدم اور حوّا علیھما السلام جہاں رہے وہاں سے سلامت نہ نکلے۔وہ جگہ ان کیلئے دارالسلام نہ ہوئی۔۴۔ کا نام دارالقرار ہے اور جہاں آدم علیہ السلام اقامت پذیر تھے۔وہ مقام اُن کے واسطے دارالزوال ہو گیا۔۵۔کی تعریف میں آیا ہے۔(حجر:۴۹) اور جہاں آدم علیہ السلام رکھے گئے۔وہاں سے نکلے یا نکالے گئے۔۶۔کی نسبت آیا ہے(حجر:۴۹) (اس میں ان کو کوفت نہ ہو گی) اور جہاں آدم علیہ السلام رکھے گئے یا مقیم ہوئے وہاں ان کو تکلیف پہنچی۔۷۔ کی نسبت جس کو بہشت کہتے ہیں وارد ہے (طور:۲۴) (جنّت میں بدکاری اور بہکنا نہیں) اور جہاں آدم علیہ السلام رہتے تھے۔وہاں شیطان نے لغو اور گناہ کیا۔۸۔ کی نسبت آیا ہے۔(النبّا:۳۶) (اس میں لغو اور جھوٹ نہ سنیں گے) اور جہاں آدم علیہ السلام رہے وہاں جھوٹ سُنا۔۹۔: آسمان میں ہے اور جس جنّت میں آدم رہے وہ زمین میں ہے جیسے کہا ہے (البقرۃ:۳۱) اور نہیں فرمایافِی السَّمَآئِ اَوْجَنَّۃَ الْمَاوٰی