حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 238
؎ گندم از گندم بروید جَوزِ جَو از مکافاتِ عمل غافلِ مشو ۱؎ تیار کرنا اسی امتحان کے معنوں کو ایک حکیم مسلمان نے نظم کیا ہے۔اور اسی سچّے علم کو قرآن کریم نے یوں بیان کیا ہے۔۔۔(النجم:۴۰ تا ۴۲) اور انسان کو اس کی سعی کے سوا اور کوئی فائدہ نہیں ملے گا اور یہ پختہ بات ہے کہ اس کی سعی دیکھی جائے گی۔پھر اسی کے مطابق واقعی اسے پورا بدلہ دیا جائے گا۔اور فرمایا (الانبیاء:۹۵) اور جو شخص نیک کام کرے گا اور وہ مومن بھی ہو گا تو اس کی سعی کی ناقدری نہیں کی جائے گی اور ہم اس کی سعی اور اعمال کو محفوظ رکھنے والے ہیں۔پھر تقدیر کے معنے علمِ الہٰی کے بھی ہیں۔اس کا مطلب یہ ہے۔کہ تمام اشیاء کا علم جنابِ الہٰی کو قبل از ایجاد اور وجود ان کے اشیاء کے حاصل ہے۔اس مسئلہ میں بھی آریہ اسلام کے مخالف نہیں۔(نورالدّین طبع ثالث صفحہ۷۳۔۷۴) تقدیر کے معنے حسبِ لُغتِ عرب اور محاورۂ قرآن کے کسی چیز کا اندازہ اور مقدار ٹھہرانا ہیں دیکھو آیات مرقومۃ الذّیل۔(الفرقان:۳) اور بنائی ہر چیز اور پھر ٹھیک کیا اس کو ماپ کر۔(القمر:۵۰) ہم نے ہر چیز بنائی پہلے ٹھہرا کر۔(الرعد:۹) اور ہر چیز کی ہے اس کے پاس گنتی۔خدا تعالیٰ نے ہر ایک چیز کو موجودات سے ایک خلقت ( نیچر) اور اندازے پر بنایا ہے۔اور جیسا اس کی ترکیب اور ہیئتِ کذائی کا مقتضاء ہو۔لابُدَّ ویسے افعال اور آثار اُس سے سرزد ہوتے ہیں۔گویا جیسے اُس کے مقدّمات ہوں گے۔لا محالہ ویسا نتیجہ اُس سے ظہور پذیر ہو گا۔ممکن نہیں ہے کہ کوئی شخص ان خدائی حدوں کو توڑ سکے اور ان اصلی خواص کو جو قدرت نے کسی چیز میں خَلق کئے ہیں۔بَدُوْں ان اسباب کے جن کو خالق نے بمقتضائے فطرت اُن کا سبب معطّل قرار دیا ہو۔کوئی شخص کسی اور طرح پر باطل کر دے سلسلۂ کائنات کے خالق کا کلام اس مطلب و مقام میں فرماتا ہے۔(الاحزاب:۶۳) سو تو نہ پاوے گا اﷲکا دستور بدلنا (فاطر:۴۴)