حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 230
کرتی ہے۔امیر دولت کے گھمنڈ سے۔مولوی علم کے گھمنڈسے۔کوئی منصوبہ بازیوں اور احکام کے پاس آنے جانے کے گھمنڈ سے اگر کامیاب ہوتا ہے تو خدا کے بندے خدا کی مدد سے کامیاب ہوتے ہیں۔اُن کے پاس سرمایۂ علوم اور سفر کے وسائل نہیں ہوتے۔مگر عالم ہونے کی لاف و گذاف مارنے والے ان کے سامنے شرمندہ ہو جاتے ہیں۔اُس کے پاس کتب خانے اور لائبریریاں نہیں ہوتیں۔وہ حکام سے جا کر ملتے نہیں۔مگر وہ ان سب کو نیچا دکھا دیتے ہیں۔جو اپنے رسوخ۔اپنے معلومات کی وسعت کے دعوے کرتے ہیں۔برادری اور قوم اس کی مخالفت کرتی ہے۔مگر آخر یوسف علیہ السلام کے بھائیوں کی طرح ان کو شرمندہ ہونا پڑتا ہے۔یہی ہمیشہ اُن کی پہچان ہوتی ہے۔غرضٖ راستباز اور مامور کی شناخت کے یہ نشان خدا تعالیٰ نے خود ہی بیان فرما دیئے ہیں۔… انسان خوب مطالعہ کرے کہ اسلام سے بڑھ کر نعمت اور عزّت و شرافت کا موجب اور کوئی چیز نہیں ہے۔میں نے پہلے بتلایا ہے کہ زمانہ کی ضرورتوں کے لحاظ سے خلیفہ بنانے کا خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے۔اور وہ خلیفہ دلائل سے نہیں آدمیوں کے انتخاب سے نہیں۔بلکہ خدا تعالیٰ ہی کی تائید اور نصرت اور طاقت سے بنیں گے۔اب اس زمانہ کے منعم علیہ ۱؎ پر غور کرو۔کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ وہ منصوبہ باز اور مشرک ہے۔عبادت میں سُست ہے۔ایک شخص کہہ سکتا ہے کہ ایک عابد اور موحّد خدا کا پرستار کہلانے والا ممکن ہے ریاکار ہو۔مگر اﷲتعالیٰ اس کے خلوص نیّت اور صِدق کو اپنی تائیدات اور نصرتوں سے ثابت کر رہا ہے۔پھر یہ خیال ہو سکتا ہے کہ خوف کے وقت ہی وہ پرستار الہٰی ہو۔نہیں نہیں۔وہ جبکہ خوف امن سے بدل جاتا ہے وہ اس وقت بھی سچّا پرستارہوتا ہے۔(الحکم ۳؍مارچ ۱۸۹۹ء صفحہ۵۔۶) ہمارے نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم اس وعدہ اور پیشگوئی کے موافق جو استثناء کے ۱۸ باب میں کی گئی تھی۔مثیلِ موسٰی ہیں۔اور قرآن نے خود اس دعوٰی کو لیا۔(المزمل:۱۶)۔اب جبکہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم مثیلِ موسٰی ٹھہرے اور خلفائِ موسویہ کے طریق پر ایک سلسلہ خلفائے محمدؐیہ کا خدا تعالیٰ نے قائم کرنے کا وعدہ کیا جیسا کہ سورۃ نور میں فرمایا: … (الآیۃ) پھر کیا چودہویں صدی موسوی ؎ حضرت میرزا غلام احمد قادیانی۔مسیح موعود علیہ السلام۔مرتّب