حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 229
مقرر فرمایا ہے۔خدا فرماتا ہے۔کہ ہمارے مامور کی شناخت کیا ہے۔اُس کیلئے ایک تو یہ نشان ہے کہ وہ بھولی بسری متاع جس کو خدائے تعالیٰ پسند کرتا ہے اس سے لوگ آگاہ ہوں اور غلطی سے چونک اٹھیں اور اسے چھوڑ دیں۔اس کو پورا کرنے کیلئے اس کو ایک طاقت دی جاتی ہے۔ایک قسم کی بہادری اور نصرت عطا ہوتی ہے۔اس بات کے قائم کرنے کیلئے جس کیلئے اس کو بھیجا ہے قسم قسم کی نصرتیں ہوتی ہیں۔کوئی ارادہ اور سچّا جوش پیدا نہیں ہوتا جب تک کہ خدا تعالیٰ کی مدد کا ہاتھ ساتھ نہ ہو۔بڑی بڑی مشکلات آتی ہیں اور ڈرانے والی چیزیں آتی ہیں مگر اﷲ تعالیٰ ان سب خوفوں اور خطرات کو امن سے بدل دیتا ہے اور دُور کر دیتا ہے۔ایک معیار تو اس کی راست بازی اور شناخت کا یہ ہے۔اب ذرا ہادیٔ کامل صلی اﷲ علیہ وسلم کی حالت پر غور کرو۔جب آپؐ نے دعوتِ حق شروع کی۔تنہا تھے۔جیب میں روپیہ نہ تھا۔بازو بڑے مضبوط نہ تھے۔حقیقی بھائی کوئی نہ تھا۔ماں باپ کا سایہ بھی سر سے اٹھ چکا تھا اور ادھر قوم کی دلچسپی نہ تھی۔مخالفت حد سے بڑھی ہوئی تھی۔مگر خدا کے لئے کھڑے ہوئے۔مخالفوں نے جس قدر ممکن تھے۔دُکھ پہنچائے۔جلاوطن کرنے کے منصوبے باندھے۔قتل کے منصوبے کئے۔کیا تھا جو انہوں نے نہ کیا۔مگر کس کو نیچا دیکھنا پڑا۔آپؐ کے دشمن ایسے خاک میں ملے کہ نام و نشان تک مِٹ گیا۔وہ ملک جو کبھی کسی کے ماتحت نہ ہوا تھا آخر کس کے ماتحت ہوا؟اُس قوم میں جو توحید سے ہزاروں کوس دور تھی۔توحید پہنچادی۔اور نہ صرف پہنچادی بلکہ منوا دی۔خوف کے بعد امن عطا کیا۔اُن کے بعد اُن کے جانشین حضرت ابوبکررضی اﷲ عنہ ہوئے۔آپؓ کی قوم جاہلیت میں بھی چھوٹی تھی حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی قوم میں سے بھی نہ تھے۔پھر کیونکر ثابت ہواکہ خلیفہ حق ہیں۔اُسامہؓ کے پاس بیس ہزار لشکر تھا۔اُس کو بھی حکم دے دیا کہ شام کو چلے جاؤ۔اگر اُسامہؓ کا لشکر موجود ہوتا تو لوگ کہتے کہ بیس ہزار لشکر کی بدولت کامیابیاں ہوئیں۔نواحِ عرب میں ارتداد کا شور اُٹھا۔تین مسجدوں کے سوا نماز کا نام و نشان نہ رہا تھا۔سب کچھ ہوا۔پرخدا نے کیسا ہاتھ پکڑا کہ رافضی بھی گواہی دے اٹھا کہ اسد اﷲ الغالب کو خوف کی وجہ سے ساتھ ہونا پڑا۔کیسا خوف پیدا ہوا کہ عرب مرتد ہو گئے بلکہ سب خوف جاتا رہا۔کیوں؟ اس لئے کہ وہ اﷲ تعالیٰ نے خلیفہ بنائے تھے۔اسی طرح ہمیشہ جب لوگ مامور ہو کر آتے ہیں تو خدا تعالیٰ کی قدرت نمائی سے۔اُس کے ہاتھ کا تھامنا یہ دکھلا دیتا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی حفاظت میں محفوط ہوتا ہے۔یاد رکھو۔جس قدر کمزوریاں ہوں وہ سب معجزات اور الہٰی تائیدمیں ہیں کیونکہ ان کمزوریوں ہی میں تائیدِ الہٰی کا مزہ آتا ہے۔اور معلوم ہو جاتا ہے کہ خدا کی دستگیری کیسا کام