حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 228 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 228

آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی امّت میں ہمیشہ کچھ ایسے پاک لوگ پیدا ہوتے رہیں گے جو آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے اصلی اور حقیقی مذہب اور تعلیمِ توحید کو قائم کرتے اور شرک و بدعات کا جو کبھی اِمتدادِ زمانہ کی وجہ سے اسلام میں راہ پا جاویں ان کا قلع قمع کرتے رہیں گے اور یہ ضروری ہے کہ آپؐ کی سچی تعلیم و تربیت کا نمونہ ہمیشہ بعض ایسے لوگوں کے ذریعہ ظاہر ہوتا رہے جو امّتِ مرحومہ میں ہر زمانہ میں موجود ہوا کریں۔چنانچہ قرآن شریف میں بھی بڑی صراحت سے اس بات کو الفاظ ذیل میں بیان کیا گیا ہے۔ ۔(الحکم۶؍اپریل۱۹۰۸ء صفحہ۴) فرمان کے وقت نافرمانی کی جاوے تو پھر اسلام کا مفہوم نہیں رہتا۔قرآن بھی یہی کہتا ہے۔ …… ۔یہاں بھی ان خلفاء کے منکروں پر لفظ کفر کا ہی آیا ہے۔کیونکہ وہ تو حکمِ الہٰی ہے۔جس رنگ میں ہو جو اس سے نافرمانی کرے گا وہ نافرمان ہو گا۔میں اس چھت کے نیچے بیٹھا ہوں اگر مجھے اﷲ تعالیٰ ابھی حکم دے کہ اُٹھ جاؤ اور میں نہ اُٹھوں تو میں نافرمان ہوں گا۔اگر یہ چھت گرے اور میں مر جاؤں تو اس نافرمانی کی سزا ہوئی۔آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم تو کیا میں تو کہتا ہوں کہ خدا کے کسی ایک حکم اور آپ کے جانشینوں کی کسی ایک نافرمانی سے انسان کافر ہو جاتا ہے۔دنیا کے مذاہب کی حفاظت کیلئے مؤید من اﷲ، نصرت یافتہ پیدا نہیں ہوتے۔اسلام کے اندر کیسا فضل اور احسان ہے کہ وہ مامور بھیجتا ہے جو پیدا ہونے والی بیماریوں میں دعاؤں کے مانگنے والا۔خدا کی درگاہ میں ہوشیار انسان۔شرارتوں اور عداوتوں کے بدنتائج سے آگاہ۔بھلائی سے واقف انسان ہوتا ہے۔جب غفلت ہوتی ہے اور قرآن کریم سے بے خبری ہوتی ہے۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی راہوں میں بے سمجھی پیدا ہو جاتی ہے۔تو خدا کا وعدہ ہے کہ ہمیشہ خلفاء پیدا کرے گا۔جس کے سبب سے کل دنیا میں اسلام فضیلت رکھتا ہے یہ امر مشکل نہیں ہوتا کہ ہم اس انسان کو کیونکر پہچانیں۔جو خدا تعالیٰ کی طرف سے مامور ہو کر آیا ہے۔اس کی شناخت کے لئے ایک نشاں منجملہ اور نشانوں کے خدا تعالیٰ نے