حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 227 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 227

تو اس نے۔ہم سب کو بنایا تو اس نے۔پھر حضرت نبی کریمؐ کے جانشینوں کو ارشاد ہوتا ہے۔  ۔جو مومنوں میں سے خلیفہ ہوتے ہیں ان کو بھی اﷲ ہی بناتا ہے۔ان کو خوف پیش آتا ہے۔مگر خدا تعالیٰ ان کو تمکنت عطا کرتا ہے۔جب کسی قسم کی بدامنی پھیلے تو اﷲ ان کیلئے امن کی راہیں نکال دیتا ہے۔جو اُن کا منکر ہو۔اس کی پہچان یہ ہے کہ اعمالِ صالحہ میں کمی ہوتی چلی جاتی ہے اور وہ دینی کاموں سے رہ جاتا ہے۔جنابِ الہٰی نے ملائکہ کو فرمایا کہ میں خلیفہ بناؤں گا کیونکہ وہ اپنے مقرّبین کو کسی آئندہ معاملہ کی نسبت جب چاہے اطلاع دیتا ہے ان کو اعترا ض سوجھا۔جو ادب سے پیش کیا۔ایک دفعہ ایک شخص نے مجھے کہا۔حضرت صاحب نے دعویٰ تو کیا ہے۔مگر بڑے بڑے علماء اس پر اعتراض کرتے ہیں۔میں نے کہا۔وہ خواہ کتنے بڑے ہیں۔مگر فرشتوں سے بڑھ کر تو نہیں۔اعتراض تو انہوں نے بھی کر دیا۔اور کہا (البقرۃ:۳۱)کیا تُو اسے خلیفہ بناتا ہے جو بڑا فساد ڈالے اور خونریزی کرے۔یہ اعتراض ہے مگر مولیٰ۔ہم تجھے پاک ذات سمجھتے ہیں۔تیری حمد کرتے ہیں۔تیری تقدیس کرتے ہیں خدا کا انتخاب صحیح تھا۔مگر خدا کے انتخاب کو ان کی عقلیں کب پا سکتی تھیں۔(الفضل ۱۷؍ ستمبر ۱۹۱۳ء صفحہ ۱۵) خدا کے حضور قربانی کرنے والا متّقی ( صلی اﷲ علیہ وسلم ) نہ صرف خود کامیاب ہوا بلکہ خلفائے راشدین کیلئے بھی یہی وعدہ لے لیا۔چنانچہ فرمایا اﷲ تعالیٰ نے  ۔دنیا میں کئی نبی جن میں بعض کا ذکر قرآن مجید میں ہے اور بعض کا نہیں۔اپنے ساتھ خارقِ عادت نشان لے کر دنیا میں آئے۔مگر ان مُحسنوں۔ان ہادیوں کیلئے کوئی دعا نہیں کرتا۔بلکہ انہیں معبود سمجھ کر دُعا کا محتاج ہی نہیں سمجھتے۔یہ شرف صرف ہمارے نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کیلئے ہے کہ رات دن کا کوئی وقت نہیں گزرتا جس میں مومنوں کی ایک جماعت دردِ دل سے اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ نہ پڑھ رہی ہو۔( بدر ۲۳؍ جنوری ۱۹۰۸ء صفحہ۹)