حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 19
یوشع ۴ باب ۶ وغیرہ وغیرہ۔اب سوچو۔حجرِ ا سود مکّے میں کونے کا پتھّرتھا۔اور اسلام سے پہلے سالہا سال کا موجود۔لوگ اسے چومتے اور اس کے ساتھ ہاتھ ملاتے تھے۔گویا یہ پتھّر کونے کا سرا مکّے میں تصویری زبان میں کتب مقدسہ کا یہ فقرہ تھا۔وہ پتھر جسے معماروں نے ردّ کیا۔وہی کونے کے سرے کا پتھر ہوا عرب اُمّی محض تھے۔اور صاحبِ کتاب نہ تھے۔ان کیلئے بجائے کتاب یہی پتھر گویا کلام الہٰی تھا۔اس پتھر کو عرب یمین الرحمن کہتے تھے۔اب جو اصل آ گیا اور اس کی منزلہ کتاب میں (الفتح:۱۱) کافرمان اترا۔عرب چونک اٹھے اور کہنے لگے (الفرقان:۶۱) اس کے تشریف لاتے باغبانی بنی اسرائیل سے چھن گئی۔جو اس پر گرا۔چُور ہوا۔جس پر وہ گر ا پِس گیا۔یہ پتھر کونے کا سرا نہ تو مسیحؑ ہیں۔کیونکہ مسیحؑ نے اس کے ظہور کیلئے اپنے بعد کا زمانہ بتایا۔دیکھو لوقا ۲۰ باب ۱۶۔متی ۲۱ باب ۴۳۔دانیال ۲ باب ۳۴(فصل الخطاب صفحہ ۲۳۴ تا ۲۳۸ ایڈیشن سوم) : میں بنی اسرائیل و بنی اسمٰعیل کا ذکر ہے۔بنی اسرائیل نبوّت، سلطنت دونوں باغوں کے مالک تھے ( بائبل میں بھی اس کی تمثیل ہے) بنی اسمٰعیل کو حقارت سے دیکھتے۔خدا نے نبوّت بھی چھین لی اور سلطنت بھی۔عبرت کا مقام ہے۔یہود دنیا میں بالشت بھر زمین کے مالک نہیں اور نہ کوئی ان کا ناصر ۱؎۔احبار ۳۳ باب ۱۰ ۲۔قرنتی ۱۵ باب ۲۰ ،۲۱ ۔(الکہف:۴۴) (بدر ۱۷؍اگست ۱۹۱۱ء صفحہ۳) ۳۴ تا ۳۶۔ دونوں باغوں نے دیا میوہ اپنا اور نہ کم کیا اس میں سے کچھ۔اور بہادی ہم نے درمیان ان