حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 207 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 207

ایسی باتیں سن کر نہ کہہ دیا کہ نہیں کہ ہمیں ایسی بات کہنا مناسب نہیں۔پس یہ عیب مردوں میں بھی ہے۔پھر عورتیں اس پر بڑے بڑے منصوبے باندھتی ہیں۔اور اس پر بڑی بڑی حکایات چلاتی ہیں۔پس خدا نے اس سے منع کیا ہے۔(الحکم ۳۱؍جولائی؍۱۰اگست۱۹۰۴ صفحہ۹) ۱۴،۱۵۔   کیوں نہیں لائے اس پر چار گواہ۔پس جب نہیں لا سکے گواہ تو یہ لوگ اﷲ تعالیٰ کے نزدیک جھُوٹے ہیں۔جو شخص کسی کے متعلق ایسا کلمہ بولے۔اس سے چار گواہ طلب کرنے چاہئیں لیکن اگر وہ اپنی بات کے واسطے چار گواہ پیش نہیں کر سکتا تو وہ جھوٹا اور خود مجرم ہے اور سزا کے لائق ہے۔اس سورہ شریفہ میں اﷲ تعالیٰ نے اختلاف کو مٹایا ہے۔سب سے پہلے زناکی جڑ کو کاٹا ہے جو سب سے زیادہ دنیا میں اختلاف کا موجب ہوا کرتا ہے۔پھر لوگوں کو بدظنی سے بچنے کے واسطے ہدایت کی ہے اور بے جا تُہمت لگانے سے منع فرمایا ہے کیونکہ جو کوئی کسی پر بے جا تُہمت لگاتا ہے وہ خود اس میں گرفتار ہوتا ہے۔امام شعرانیؔ نے لطَائِفُ المِنَن میں لکھا ہے کہ مصر میں ایک بزرگ ایک محلہ میں رہتے تھے۔چند نوجوان ان کی خدمت میں تھے جن کے متعلق محلہ والے اُس بزرگ پر اتہام باندھتے تھے۔وہ بزرگ ان کو ہمیشہ نصیحت کرتے مگر وہ باز نہ آتے۔آخر تنگ آ کر اس بزرگ نے بد دُعا کی کہ جو جھوٹا ہے وہ وبال پائے۔اس بد دُعا کا یہ نتیجہ ہوا کہ وہ سارا محلہ کنجروں اور لُوطیوں کا ہو گیا۔مَعَاذَ اﷲِ (بدر۱۳؍جولائی ۱۹۰۵ء صفحہ۴) حضرت عائشہ ؓ کی عمر ۶ سال کی تھی جب نبی کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم سے نکاح ہوا اور ۹ برس کی عمر تھی جب نبی کریمؐاپنے گھر میں لے آئے تھے۔حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ ہم بہت ہی معمولی غذا تنگی سے کھاتے تھے۔بھلا ۹ برس کی لڑکی کہاں موٹی تازہ ہو گی۔حضرت عائشہ ؓ نبی کریم صلی اﷲعلیہ و آلہٖ وسلم