حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 206 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 206

کچھ لونگ اس میں پروئے ہوئے تھے۔وہ لشکر سے باہر پاخانہ پھرنے کو گئیں تو وہاں ہار ٹوٹ پڑا اس کو چُننے لگیں۔یہ نو برس کی بیاہی گئیں۔اور ۱۸ برس کی بیوہ بھی ہو گئی تھیں۔اور ۶۳ برس کی عمر میں فوت ہو گئی تھیں۔اس عرصہ میں مسلمانوں کے بہت انقلاب دیکھے۔چونکہ بہت ہلکی پھلکی تھیں۔ساربانوں نے ان کا ڈولا اونٹ پر کَس دیا اور چل دیئے۔کسی کو معلوم نہ ہو ا کہ آپؓ اس میں ہیں کہ نہیں۔جب یہ جنگل سے واپس اُس مقام پر آئیں تو دیکھا کہ قافلہ چلا گیا ہے۔جوانی کے ایّام تھے نیند نے غلبہ کیا اور سو گئیں۔ایک شخص ہمیشہ لشکر میں پیچھے رہتا کہ گری پڑی چیز اٹھا لاوے۔چنانچہ صفوانؔ صحابی اس کام پر مامور تھا۔جب انہوں نے دُور سے بی بی کو پڑا ہوا دیکھا تو سمجھا کہ کوئی عورت فوت ہو گئی ہو۔اور یہیں چھوڑ کر قافلہ چلا گیا ہے اور زور سے اِنَّالِلّٰہپڑھا۔آواز سُن کر آپؓ جاگ اُٹھیں۔پھر صفوان نے ان کو اُونٹ پر سوار کیا اور خود آگے آگے ہوا۔اور دوپہر کو لشکر میں لے کر پہنچا۔لیکن بہت سارے شریر اور بدگمان لوگوں نے کہا کہ شاید کسی بدی کی وجہ سے بی بی پیچھے رہ گئی ہیں۔جب یہ خبر آنحضرتؐ کو پہنچی تو حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا ان دنوں میں بیمار تھیں۔ان دنوں گھروں میں پاخانہ نہیں ہوتا تھا۔ایک روز آپؓ باہر پاخانہ کو گئیں تو ایک بڑھیا ساتھ تھی۔ساتھ والی بڑھیا راستہ میں گر پڑی ( عورتیں بات دل میں نہیں رکھ سکتیں) گِر کر اپنے بیٹے کو سخت گالی نکالی۔بی بی نے منع کیا غرض تین دفعہ اسی طرح کیا اور تین دفعہ بی بی نے منع کیا۔تو کہنے لگی کہ تجھے خبر نہیں۔تجھ پر لوگوں نے تُہمت لگائی ہے اور اس میں میرا بچّہ بھی شریک ہے۔اسی لئے اس کو گالی دیتی ہوں۔پس صدیقہ اسی دن اپنے میکے میں چلی آئی۔ایک مہینہ کے بعد آنحضرت ؐ اس کے پاس آئے۔اور کہا۔عائشہ اگر تُجھ سے غلطی ہوئی ہے تو تُو استغفار کر۔اگر نہیں ہوئی تو خدا تعالیٰ مجھے وحی سے آگاہ کر دے گا۔اس سے معلوم ہوا۔کہ یہ لوگ غیب کی کنجیاں اپنے ہاتھ میں نہیں رکھتے۔بہت لوگ ان کو خدا کا ایجنٹ سمجھتے ہیں۔یاد رکھو کہ خدا بڑا بادشاہ ہے!کُل انبیاء۔اولیاء۔مُرسل ان کی قوّت کے نیچے رہتے ہیں اور جس کو وہ چاہتا ہے اس کو اطلاع دیتا ہے۔پھر اﷲ تعالیٰ نے قرآن کی آیات نازل کیں اور اس بی بی کا پاک اور مطہّر ہونا بتلایا۔فرمایا(۔الآیۃ) جب عائشہ ؓ کے حق میں تم لوگوں نے بُرا فقرہ سُنا تھا تو نیک گمان سے کیوں کام نہ لیا۔پس میں تمہیں یہی فقرہ سنانا چاہتا ہوں۔کہ نیک گمانی سے کام لیا کرو۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ کیوں تم نے