حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 202
اور جو لوگ تہمت لگاتے ہیں پاک دامن عورتوں پر۔پھر نہیں پیش کرتے چار گواہ۔ان کو اسی ۸۰ کوڑے مارو اور ان کی گواہی کبھی قبول نہ کرو۔یہ لوگ فاسق ہیں۔اس آیت شریف میں دو حکم ہیں۔اوّلؔ تو یہ کہ جب تک چار گواہ نہ ہوں۔کسی کا ایک عورت پر تہمت لگانا قبول نہیں کیا جا سکتا۔جب کبھی کوئی شخص کسی عورت کے متعلق زنا کار کا لفظ بولے تو ضرورہے کہ اس سے چار گواہ طلب کئے جاویں۔دوسراؔ حکم یہ ہے کہ جو شخص چار گواہ نہیں لا سکتا اور یونہی کسی کو بدنام کرتا ہے۔اس کی سزا یہ ہے کہ اس کو اسی ۸۰ کوڑے مارے جائیں اور پھر کسی معاملہ میں اس کی گواہی قبول نہ کی جائے۔یہ ہر دو حکم نہایت ہی غور اور توجہ کے لائق ہیں۔عموماً لوگوں کی عادت ہے کہ صرف خیالی طور پر بدظنی کر کے چہ جائیکہ رؤیت ہو اور پھرچار گواہ بھی ہوں۔عوام میں کہنے لگ جاتے ہیں کہ فلاں مرد یا عورت نے زنا کیا۔پھر ایسی باتوں کو لوگ اپنی مجلسوں کا شغل بناتے ہیں۔خدا کے غضب سے ڈرنا چاہیئے اور ایسی بات منہ پر نہیں لانی چاہیئے۔کیونکہ خدا نے ایسے آدمی کا نام فاسق رکھا ہے۔جو بغیر چار گواہوں کے کسی پر اتہام لگاتا ہے۔(بدر۱۳؍جولائی ۱۹۰۵ء صفحہ۴) ۶۔ مگر جن لوگوں نے اس کے بعد توبہ کی اور اپنی اصلاح۔تو بیشک اﷲ تعالیٰ بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔جب لوگ ایسی شرارت کے بعد اپنی اصلاح کریں یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان ظاہر ہو جاوے کہ یہ اب اس طرز اور طریقہ کا آدمی نہیں رہا۔اور نیک بن گیا ہے تو پھر دوسرے لوگوں کی طرح اس کی شہادت بھی قبول کی جاوے۔اﷲ تعالیٰ رحیم و کریم نادان جہّال کی طرح کینہ ور نہیں۔اس کے احکام ہماری درستی اور اصلاح کے واسطے ہیں۔(النساء:۱۴۸) مندرجہ بالاحکم ان اشخاص کے واسطے ہے جو کسی غیر مرد یا غیر عورت کے