حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 201 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 201

سے اور حرام ہے یہ بات مومنوں پر۔کیا معنے؟ کوئی مومن زنا کار سے نکاح نہ کرے۔تعلقاتِ شادی سے پہلے جہاں دوسرے امور کی تحقیق و تفتیش کی جاتی ہے وہاں یہ بھی ضروری ہے کہ اچھی طرح سے دریافت کر لیا جائے کہ مرد یا عورت ایسے نہ ہوں جو زنا میں گرفتار ہیں۔یہ تجربہ کی بات ہے۔کہ نیک بدکار کے مناسب حال نہیں ہوتا۔اور بدکار نیک کے مناسب حال نہیں ہوتا۔سوال:اَلتَّائِبُ مِنَ الذَّنْبِ کَمَنْ لَا ذَنْبَ لَہٗجب گناہ سے توبہ کرنے کے بعد تائبہ ایسی ہو جاتی ہے کہ گویا اس نے کوئی گناہ کیا ہی نہیں تو پھر دوسری عورتوں کی طرح اس کا نکاح مومن کے ساتھ کیوں جائز نہیں۔جواب: ایک کنچنی اپنے پیشہ کو چھوڑنے کے بعد بھی سب کے درمیان کنچنی ہی کہلاتی ہے کوئی اس کو تائبہ نہیں کہتا۔ہندو مسلمان ہو جاتا ہے تو پھر اس کو کوئی ہندو نہیں کہتا۔لیکن کنچنی باوجود نکاح کر لینے کے بھی لوگوں کے درمیان کنچنی ہی مشہور رہتی ہے۔علاوہ ازیں گزشتہ عادتِ بد کا کچھ ایسا اثر اندر ہی اندر رہتا ہے کہ اس کا جانا مشکل ہوتا ہے… ایک دفعہ ایک کنچنی تائبہ ہو کر ہمارے پاس آئی اور کہا کہ میں آپ سے نکاح کرنا چاہتی ہوں۔ہم نے اس کو اسی آیت شریف کے حکم کے مطابق جواب دیا لیکن وہ اس خیال سے باز نہ آئی۔اور ہمارے پیچھے پڑی رہی تو ہم نے جواب دیا کہ ایک علیحدہ مکان لے لے۔اور گندے کام کو بالکل ترک کردے۔یہاں تک کہ اﷲ تعالیٰ تیرا یہ نام ہٹا دے۔انہیں دنوں میں ایک نوجوان امیر زادہ جو ہمارا بھی واقف تھا۔اس کے پاس پہنچا اور اس کو اس طرح سے پھسلایا کہ میں ذمّہ لیتا ہوں کہ تمہارا نکاح مولوی صاحب سے کرا دُوں گا۔مگر چونکہ پھر تم ہمیشہ کے واسطے پردہ نشین ہو جاؤ گی اس واسطے اب تم ایک رات کیلئے میرے مکان پر آ جاؤ۔اپنی گزشتہ عادتِ بد کے مطابق اس کے واسطے یہ امر قبول کرنا مشکل نہ ہوا۔چنانچہ وہ اس کے مکان پر چلی گئی۔رات کو اس بدکار نے شراب نوشی سے اپنا درد شکم ظاہر کیا۔اور مجھے بلانے کو آدمی بھیجا کہ میں اس کا علاج کروں اگرچہ میں خود نہ گیا۔تاہم میرے شاگردوں کے جانے کا یہ نتیجہ ہواکہ وہ عورت پھر کبھی میرے پاس نہ آئی۔اور اس جوان نے صبح کو ہم کو کہا کہ دیکھو کس آسانی سے ہم نے اس عورت کو آپ کے پاس سے دفع کیا۔(بدر ۶؍جولائی ۱۹۰۵ء صفحہ۳) ۵۔