حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 200 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 200

سورہ شریف میں نازل ہوا کہ جب کسی مرد اور عورت پر زنا کا الزام ثابت ہو جائے تو ان کی سزا یہ ہے کہ مرد کو بھی سو کوڑے مارے جائیں اور عورت کو بھی سو کوڑے مارے جائیں۔اورنہ پکڑے تم کو ان دونوں کے ساتھ نرمی اور ترس کھانا۔اﷲ تعالیٰ کے دین کے معاملہ میں۔اگر ہو تم ایمان لانے والے ساتھ اﷲ کے اور دن پچھلے کے۔کیا معنے۔مومنوں کو نہیں چاہیئے کہ ایسے لوگوں پر ترس کھا کر ان سے در گزر کر دیں۔اور ان کو سزا نہ دیں کیونکہ اس میں فتنہ و فساد ہے۔اور بالآخر مفید امر اُن کے واسطے اور قوم اور تمدّن کے واسطے یہی ہے۔کہ ایسے جُرم کا مرتکب کھلے طور پر اپنی سزا کو پہنچے۔: اور چاہیئے کہ مشاہدہ کرے ان کے عذاب کو ایک گروہ مومنوں کا۔سزا پبلک میں دینی چاہیئے۔اور مومنوں کو وہاں جمع ہونا چاہیئے آجکل نیک کہلانے والے ایک جھوٹی نرم دلی کا بہانہ کر کے ایسے موقع پر جانے سے پرہیز کرتے ہیں۔ایسا خیال گناہ ہے کیونکہ حکم الہٰی کے برخلاف ہے۔(بدر ۶؍جولائی ۱۹۰۵ء صفحہ۳) ۴۔  بدکار تو بدکاروں یا بُت پرست عورتوں کو ہی نکاح کرتے ہیں اور بدکار عورتیں بھی ایسی ہیں کہ انہیں بدکار یا مشرک ہی بیاہیں۔اور ایمان والوں پر تو یہ باتیں حرام ہی ہیں۔(تصدیق براہین احمدیہ صفحہ۲۸۶) : زانی نکاح نہیں کرتا مگر زانیہ سے۔:  کے مرجع پر علماء میں بحث ہے۔بعض کہتے ہیںکہ زانیہ سے نکاح کرنا حرام ہے۔اور بعض یہ کہ زنا حرام ہے۔پھر علماء میں اختلاف ہے کہ تہمتِ زنا لگانے والے کی گواہی جائز ہے یا نہیں؟ (ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۷؍جولائی ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۸۱) زنا کرنے والا مرد نہیں نکاح کیا کرتا مگر ایسی عورت سے جو زنا کار ہو چکی ہے۔یا کسی مشرکہ عورت سے اور زناکرنے والی عورت نہیں نکاح کیاکرتی مگر کسی ایسے مرد سے جو زنا کار ہو چکا ہے۔یا کسی مشرک