حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 198 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 198

سُوْرَۃُ النُّوْرِ مَدَنِیَّۃٌ  سورۂ نور میں تمیز کا بیان ہے اور یہ کہ مطاعن سے بچنا چاہیئے اور ان کے اسباب سے بھی۔اور رسول کے ساتھیوں کا مقابلہ نہیں کرنا چاہیئے۔خلافت پر بڑا زور دیا گیا ہے۔کوئی سورۃ ایسی نہیں جس کے پہلے یہ لکھا ہوکہ ہم نے تم پر یہ حکم واجب یا فرض کیا ہے۔یہ تاکید اس سورۃ کے ساتھ مخصوص ہے۔خوب غور سے سنو اور عمل کرو۔میرے ایک پیر شاہ عبدالغنی صاحب مہاجرفرماتے تھے کہ سورۃ نورؔ قرآن شریف میں ہے۔مگر ہند وستان کے لوگ اس پر عمل نہیں کرتے۔اور اس کے ایک ٹکڑے کی طرف بھی توجہ نہیں۔سورۃ مومنونؔ کے اخیر میں یہ اشارہ فرما دیا ہے کہ اس آنے والی سورۃ کے احکام پر جو عمل نہیں کریں گے۔ان کو ہم مظفر و منصور کبھی نہ کریں گے۔چنانچہ دیکھ لو ہندوستان کے مسلمانوں کا کیا حال ہے۔( ضمیمہ اخبار بدرقادیان ۷؍ جولائی ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۸۱) میرے ایک شیخ تھے۔حضرت شاہ عبدالغنی صاحب نام مجدّدی۔اور میں نے ان کے ہاتھ پر بیعت کی تھی۔اور اب تک ان کا معتقد ہوں۔وہ فرماتے تھے کہ ہندوستان کے مسلمانوں نے اس سورۃ میں سے ایک آیت پر بھی عمل نہیں کیا اور میرا بھی اتنی عمر کا تجربہ ہے کہ یہ بات درست ہے۔اس واسطے اس سورۃ کو بہت غور اور توجہ سے سننا چاہیئے اور اس پر عمل کرنے کی سعی کرنی چاہیئے۔(بدر ۶؍جولائی ۱۹۰۵ء صفحہ۳) اس سورۃ میں بتایا ہے کہ نبی کریمؐ تک یہ سلسلہ نہیں۔بلکہ خلافت کا سلسلہ بھی تا یومِ قیامت ہے۔خلافت کے منکر اور عیب چین ہوں گے۔مگر آخر ذلیل۔فرماتا ہے کہ مجرموں کو تو ہم سزا دینے کا حکم دیتے ہیں۔انہیں خلفاء کیوں بنانے لگے۔پس تم الزام دہی سے باز آؤ۔(تشحیذالاذہان جلد۸ نمبر۹ صفحہ۴۶۸ ماہ ستمبر ۱۹۱۳ء) میں شاہ عبدالغنی صاحب کا مرید تھا۔انہوں نے فرمایا تھا کہ اہلِ ہند نے سورۂ نورؔ پر عمل ترک کر دیا ہے بلکہ اپنے لئے اس کو منسوخ ہی سمجھ لیا ہے۔پس تم اس پر ضرور غور کرو۔اس میں سب سے پہلے زنا کی مذمت ہے نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا