حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 194 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 194

  : انبیاء علیھم السلام کس طرح فتح مند ہوتے ہیں ان کاسِر خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ دعا کرتے ہیں۔: اس دعا پر خوب غور کرو۔کہ کس قدر خوف کا مقام ہے۔نبی کہتا ہے کہ ان پر جو عذاب آئے میں بھی ان ہی میں شامل نہ ہو جاؤں۔اﷲ تعالیٰ بے باکی سے ناراض ہو جاتا ہے۔بعض لوگ بڑے بڑے دعوے کر بیٹھتے ہیں اور آخر خطاکھاتے ہیں۔اس میں یہ پیشگوئی بھی ہے۔کہ اہلِ مکّہ پر عذاب کے وقت نبی کریمؐ ان میں موجود نہ ہوں گے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۷؍جولائی۱۹۱۰ء صفحہ ۱۸۰۔۱۸۱) جب ہم یہ آیات پڑھتے ہیں … تو یہ دو باتیں کھُلتی ہیں۔ایک تو یہ کہ اﷲ کی ذات کس قدر غناء میں پڑی ہوئی ہے کہ وہ انبیاء جن کے مبارک وجود کی خاطر بعض اوقات تمام ملک کو بھی غرق کر دیتا ہے۔اس کے حضور میں عاجزی سے گڑ گڑانے کے محتاج ہیں اور دُعا کی احتیاج سے خالی نہیں۔اب دیکھئے حضرت نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کی خاطر عذاب آتا ہے۔مگر دوسری جانب آپؐ ہی کے منہ سے کہلواتا ہے۔ یعنی اے میرے ربّ مجھے ظالموں کی قوم میں سے نہ گردانیو۔اس آفت میں مبتلا نہ ہو جاؤں۔دومؔ یہ کہ وعدہ ہو یا وعید وہ ضرور ٹل سکتا ہے۔چنانچہ فرماتا ہے۔۔یعنی ہم جو ان کو وعدہ دیتے ہیں۔اس کے دکھانے پر قادر ہیں۔یہ نہیں فرمایا کہ ضرور وہ وعدہ اسی رنگ میں پورا کریں گے۔بلکہ یہ فرمایا کہ قادر ہیں۔چاہیں تو اسے بدل کر کسی اور رنگ میں پورا کر دیں۔یہ نکتہ معرفت اگر خوب سمجھ لیا جائے تو پھر بُروزِ محمد علیہ الصلوٰۃ والسلام کی پیشگوئیوں پر کوئی اعتراض نہیں رہتا۔( تشحیذالاذہان جلد۶ نمبر۱۰ صفحہ۳۹۷ ماہ اکتوبر ۱۹۱۱ء) ۹۷۔ : اگر کوئی بدی ہو تو اس کیلئے عمدہ تدبیر