حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 191
ہیں اور : اور پھر اﷲ تعالیٰ کے ساتھ اعمال اور ترکِ اعمال میں کسی کو شریک نہیں کرتے۔نیکی کو اس لئے کرے کہ خدا تعالیٰ کی رضا کا باعث ہے اور اُسی کے لئے اس کو کرے اور بدیوں سے اس لئے اجتناب کرے کہ خدا نے اُن کو بُرا فرمایا۔اور ان سے روکا ہے اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کی اتباع مدّ نظر رکھ کر نیکی کرے۔نیکی کرتا ہوا بھی خوفِ الہٰی کو دل میںجگہ دے کیونکہ وہ نکتہ نواز اور نکتہ گیر ہے۔حدیث شریف میں آیا ہے۔جنابہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا عرض کرتی ہیں کہ بدیاں کرتے ہوئے خوف کریں فرمایا نہیں نہیں۔نیکیاں کرتے ہوئے خوف کرو۔جو نیکیاں کرنے کی ہیں کرو۔اور پھر حضورِ الہٰی میں ڈرتے رہو کہ ایسا نہ ہو کہ عظیم و قدوس خدا کے حضورکے لائق ہیں یا نہیں۔ایسے لوگ ہیں جو کے مصداق ہوتے ہیں یعنی اوّل اور آخر میں خشیت ہو۔فعل اور ترکِ فعل اخلاص اور ثواب کے طور پر ہوں اور وہ بھلائیوں کے لینے والے اور دوسرے سے بڑھنے والے ہیں۔(الحکم ۱۹؍ اپریل ۱۸۹۹ء صفحہ۴) ۶۳۔ وسوسۂ شیطانی یہ بھی آ جاتا ہے کہ یہ راہ کٹھن ہے کیونکرچلیں گے خدائے تعالیٰ خود ہی اس وسوسہ کا جواب دیتا ہے کہ ہم نے جو اعمال کے کرنے کا حکم دیا ہے اور نواہی سے روکا ہے وہ مشکل نہیں۔کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ عدم استطاعت پر حج کا حکم ہے اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اوامر و نواہی ایسے ہیں کہ عمل کر سکتا ہے اور اُن سے باز رہ سکتا ہے۔اور یہ امر بھی بحضورِ دل یاد رکھو کہ بعض اعمال بھول جاتے ہیں۔جنابِ الہٰی کے ہاں بھول نہیں بلکہ فرمایا۔یاد رکھو جنابِ الہٰی میں اعمال محفوظ رکھے جاتے ہیں۔خدا کے ہاں ظلم نہیں ہوتا۔(الحکم ۱۹؍ اپریل ۱۸۹۹ء صفحہ۴) ۶۴،۶۵۔